مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 177

پڑتی۔پس وہ کونسی پوشیدہ طاقت ہے جس نے ہزاروں کے ہاتھوں کو باندھ دیا اور دماغوں کو پست کر دیا اور علم اور سمجھ کو چھین لیا۔اور سورۃ فاتحہ کی گواہی سے میری سچائی پر مُہر لگادی اور ان کے دلوں کو ایک اور مُہر سے نادان اور نا فہم کر دیا۔ہزاروں کے رو برو ان کے چرک آلودہ کپڑے ظاہر کئے اور مجھے ایسے سفید کپڑوں کی خلعت پہنا دی جو برف کی طرح چمکتی تھی اور پھر مجھے ایک عزت کی کُرسی پر بٹھا دیا۔اور سورہ فاتحہ سے ایک عزت کا خطابمجھے عنایت ہوا۔وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔اور خدا کے فضل اور کرم کو دیکھو کہ تفسیر کے لکھنے میں دونوں فریق کے لئے چار جُز کی شرط تھی یعنی یہ کہ ستر دن کی میعاد تک چار جُز لکھیں لیکن وہ لوگ باوجود ہزاروں ہونے کے ایک جُز بھی نہ لکھ سکے اور مجھ سے خدائے کریم نے بجائے چار جُز کے ساڑھے باراں جُز لکھوا دیئے۔اب مَیں علماء مخالفین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ معجزہ نہیں ہے اور اس کی کیا وجہ ہے کہ معجزہ نہ ہو۔کوئی انسان حتی المقدور اپنے لئے ذلت قبول نہیں کرتا۔پھر اگر تفسیر لکھنا مخالف مولویوں کے اختیار میں تھا تو وہ کیوں نہ لکھ سکے۔کیا یہ الفاظ جو میری طرف سے اشتہارات میں شائع ہوئے تھے کہ جو فریق اب بالمقابل ستر دن میں تفسیر نہیں لکھے گا وہ کاذب سمجھا جائے گا۔یہ ایسے الفاظ نہیں ہیں جو انسان غیرت مند کو اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ سب کام اپنے پر حرام کر کے بالمقابل اس کام کو پورا کرے تا جھوٹا نہ کہلاوے۔لیکن کیونکر مقابلہ کر سکتے۔خدا کا فرمودہ کیونکر ٹل سکتا کہ ۔۱؎ خدا نے ہمیشہ کے لئے جب تک کہ دنیا کا انتہا ہویہ حجت اُن پر پوری کرنی تھی کہ باوجود یہ کہ علم اور لیاقت کی یہ حالت ہے کہ ایک شخص کے مقابل پر ہزاروں اُن کے عالم و فاضل کہلانے والے دم نہیں مار سکتے پھر بھی کافرکہنے پر دلیر ہیں۔کیا لازم نہ تھا کہ پہلے علم میں کامِل ہوتے پھر کافر کہتے۔جن لوگوں کے علم کا یہ حال ہے کہ ہزاروں مل کر بھی ایک شخص کا مقابلہ نہ کر سکے۔چار جُز کی تفسیر نہ لکھ سکے ان کے بھروسہ پر ایک ایسے مامور من اللہ کی مخالفت اختیار کرنا جو نشان پر نشان دکھلا رہا ہے۔بڑے بد قسمتوں کا کام ہے۔بالآخر ایک اور ہزار شکر کا مقام ہے کہ اس موقعہ پر ایک پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ ۱؎ المجادلۃ : ۲۲