مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 170

مجموعه اشتہارات ۱۷۰ جلد سوم دیا گیا یہ کا ذب کو بھی مل سکتا ہے۔ پھر جس حالت میں قرآن شریف نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اگر یہ نبی کا ذب ہوتا تو یہ پیمانہ عمر وحی پانے کا اس کو عطا نہ ہوتا ۔ اور توریت نے بھی یہی گواہی دی اور انجیل نے بھی یہی تو پھر کیسا اسلام اور کیسی مسلمانی ہے کہ ان تمام گواہیوں کو صرف میرے بغض کے لئے ایک رڈی چیز کی طرح پھینک دیا گیا اور خدا کے پاک قول کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کیسی ایمانداری ہے کہ ہر ایک ثبوت جو پیش کیا جاتا ہے اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور وہ اعتراضات بار بار پیش کرتے ہیں جن کا صدہا مرتبہ جواب دیا گیا ہے اور جو صرف میرے پر ہی نہیں ہیں بلکہ اگر اعتراض ایسی باتوں کا ہی نام ہے جو میری نسبت بطور نکتہ چینی ان کے منہ سے نکلتے ہیں تو اُن میں تمام نبی شریک ہیں۔ میری نسبت جو کچھ کہا جاتا ہے پہلے سب کچھ کہا گیا ہے۔ ہائے! یہ قوم نہیں سوچتی کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہیں تھا تو کیوں عین صدی کے سر پر اس کی بنیاد ڈالی گئی اور پھر کوئی بتلا نہ سکا کہ تم جھوٹے ہو اور سچا فلاں آدمی ہے۔ ہائے ! یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر مہدی معہود موجود نہیں تھا تو کس کے لئے آسمان نے خسوف کسوف کا معجزہ دکھلایا۔ افسوس یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ دعوی بے وقت نہیں ۔ اسلام اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فریاد کر رہا تھا کہ میں مظلوم ہوں اور اب وقت ہے کہ آسمان سے میری نصرت ہو۔ تیرھویں صدی میں ہی دل بول اُٹھے تھے کہ چودھویں صدی میں ضرور خدا کی نصرت اور مدد آئے گی ۔ بہت سے لوگ قبروں میں جا سوئے جو رو رو کر اس صدی کی انتظار کرتے تھے اور جب خدا کی طرف سے ایک شخص بھیجا گیا تو محض اس خیال سے کہ اس نے موجودہ مولویوں کی ساری باتیں تسلیم نہیں کیں اس کے دشمن ہو گئے ۔ مگر ہر ایک خدا کا فرستادہ جو بھیجا جاتا ہے ضرور ایک ابتلا ساتھ لاتا ہے۔ حضرت عیسی جب آئے تو بد قسمت یہودیوں کو یہ ابتلا پیش آیا کہ ایلیا دوباره آسمان سے نازل نہیں ہوا اور ضرور تھا کہ پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہوتا تب مسیح آتا جیسا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔ اور جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اہل کتاب کو یہ ابتلا پیش آیا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا۔ اب کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت بھی کوئی ابتلا ہو۔ اور اگر مسیح موعود تمام باتیں اسلام کے تہتر فرقہ کی مان لیتا تو