مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 153
بے ایمان خونی ہے۔یہ سب خطاب ان لوگوں کی طرف سے خدا کے نبیوں اور مامورین کو ملتے ہیں جو سیاہ باطن اور دل کے اندھے ہوتے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی یہی اعتراض اکثر خبیث فطرت لوگوں کے ہیں کہ اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو رغبت دی کہ تا وہ مصریوں کے سونے چاندی کے برتن اور زیور اور قیمتی کپڑے عاریتاً مانگیں اور محض دروغگوئی کی راہ سے کہیں کہ ہم عبادت کے لئے جاتے ہیں۔چند روز تک یہ تمہاری چیزیں واپس لا کر دے دیں گے اور دل میں دغا تھا۔آخر عہد شکنی کی اور جھوٹ بولا اور بیگانہ مال اپنے قبضہ میں لا کر کنعان کی طرف بھاگ گئے۔اور درحقیقت یہ تمام اعتراضات ایسے ہیں کہ اگر معقولی طور پر اُن کا جواب دیا جائے تو بہت سے احمق اور پست فطرت ان جوابات سے تسلّی نہیں پا سکتے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی عادت بقیہ حاشیہ۔ہے اور مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کا جہنّم جھوٹوں کے لئے بھڑک رہا ہے کہ مَیں نے سخت تکذیب کو دیکھ کر خود اس فوق العادت مقابلہ کے لئے درخواست کی تھی۔اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب مباحثہ منقولی اور اس کے ساتھ بیعت کی شرط پیش نہ کرتے جس سے میرا مدّعا بکلّی کالعدم ہو گیا تھا تو اگر لاہور اورقادیان میں برف کے پہاڑ بھی ہوتے اور جاڑے کے دن ہوتے تو مَیں تب بھی لاہور پہنچتا اور ان کو دکھلاتا کہ آسمانی نشان اس کو کہتے ہیں۔مگر انہوں نے مباحثہ منقولی اور پھر بیعت کی شرط لگا کر اپنی جان بچائی اور اس گندے مکر کے پیش کرنے سے اپنی عزت کی پر وا نہ کی۔لیکن اگر پیر جی حقیقت میں فصیح عربی تفسیر پر قادر ہیں اور کوئی فریب انہوں نے نہیںکیا تو اب بھی وہی قدرت ان میں ضرور موجود ہوگی۔لہٰذا مَیں اُن کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اس میری درخواست کو اس رنگ پر پورا کردیں کہ میرے دعاوی کی تکذیب کے متعلق فصیح بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی ایک تفسیر لکھیں جو چارجز سے کم نہ ہو۔اور مَیں اسی سورۃ کی تفسیر بِفَضْلِ اﷲِ وَقُوَّتِـہٖ اپنے دعویٰ کے اثبات سے متعلق فصیح بلیغ عربی میں لکھوں گا۔انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں تمام دُنیا کے علماء سے مدد لے لیں۔عرب کے بلغاء فصحاء بلالیں۔لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کر لیں۔۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ستر۷۰ دن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے۔ایک دن بھی زیادہ نہیں ہو گا۔اگر