مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 154

یسے نکتہ چینوں کے جواب میں یہی ہے کہ جو لوگ اس کی طرف سے آتے ہیں ایک عجیب طور پر اُن کی تائید کرتا ہے اور متواتر آسمانی نشان دکھلاتا ہے یہاں تک کہ دانشمند لوگوں کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر یہ شخص مفتری اور آلودہ دامن ہوتا تو اس قدر اس کی تائید کیوں ہوتی کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا ایک مفتری سے ایسا پیار کرے جیسا کہ وہ اپنے صادق دوستوں سے کرتا رہا ہے۔اسی کی طرف اﷲ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔۔َ۔۱؎ یعنی ہم نے ایک فتح عظیم جو ہماری طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہے تجھ کو عطا کی ہے تاہم وہ تمام گناہ جو تیری طرف منسوب کئے جاتے ہیں اُن پر اس فتح نمایاں کی نورانی چادر ڈال کر نکتہ چینوں کا خطاکار ہونا ثابت کروں۔غرض قدیم سے اور جب سے کہ سلسلۂ انبیاء علیہم السلا م شروع ہوا ہے سنت اﷲ یہی ہے کہ وہ ہزاروں نکتہ چینیوں کا ایک ہی جواب دے دیتا ہے یعنی تائیدی نشانوں سے مقرب ہونا بقیہ حاشیہ۔بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب اُن کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُرخیال کریں تو مَیں پانسو۵۰۰ روپیہ نقد ان کو دوں گا۔اور تمام اپنی کتابیں جلادوں گا اور اُن کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا۔اور اگر قضیہ برعکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر۷۰ روز تک وہ کچھ بھی لکھ نہ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش۔صرف یہی دکھلائوں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا اور کیسے سراسر ظلم اور سفلہ پن اور خیانت سے بعض اخباروالوں نے ان کی اپنی اخباروں میں حمایت کی۔مَیں اس کام کو انشاء اﷲ تحفہ گولڑویہ کی تکمیل کے بعد شروع کردوں گا۔اور جو شخص ہم میں سے صادق ہے۔وہ ہرگز شرمندہ نہیں ہو گا۔اور اب وقت ہے کہ اخباروں والے جنہوں نے بغیر دیکھے بھالے کے اُن کی حمایت کی تھی اُن کو اس کام کے لئے اُٹھاویں۔ستّر ۷۰دن میں یہ بات داخل ہے کہ فریقین کی کتابیں چھپ کر شایع ہو جائیں۔منہ ۱؎ الفتح : ۲ ، ۳