مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 151
مجموعه اشتہارات ۱۵۱ جلد سوم ضرور حصہ لیتے ۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ اُن کے بعض دوست جن کے دلوں میں یہ خیالات ہیں۔ جب پیر صاحب کی عربی تفسیر مزین به بلاغت و فصاحت دیکھ لیں گے تو اُن کے پوشیدہ شبہات جو پیر صاحب کی نسبت رکھتے ہیں جاتے رہیں گے اور یہ امر موجب رجوع خلائق ہوگا جو اس زمانہ کے ایسے پیر صاحبوں کا عین مدعا ہوا کرتا ہے۔ اور اگر پیر صاحب مغلوب ہوئے تو تسلی رکھیں کہ ہم اُن سے کچھ نہیں مانگتے اور نہ اُن کو بیعت کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔ صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جو ہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میرے رڈ میں کتاب تالیف کی لوگوں پر ظاہر ہو جائیں اور شاید زلیخا کی طرح اُن کے منہ سے بھی الْنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ نکل آئے۔ اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں ۔ مگر پیر صاحب دلگیر نہ ہوں ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسین بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔ فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہیے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ار دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک جو ستر دن ہیں۔ فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ لد ۷۰ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کا ذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔ المش وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى تهر مرزا غلام احمد از قادیاں ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء مطبوعه ضياء الاسلام پریس قادیان یہ اشتہار ۳۸۴ کے چار صفحہ پر ہے ) A روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۷۹ تا ۴۸۴)