مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 144
نبی کریم کے شکر گزار رہو اور اس پر درود بھیجو کیونکہ وہی ہے جس نے تاریکی کے زمانہ کے بعد نئے سرے خدا شناسی کی راہ سکھلائی۔(۴) عام خلق اللہ کی ہمدردی کرو اور اپنے نفسانی جوشوں سے کسی کومسلمان ہو یا غیر مسلمان تکلیف مت دو۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔(۵) بہرحال رنج و راحت میں خدا تعالیٰ کے وفا دار بندے بنے رہو۔اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے مُنہ نہ پھیرو بلکہ آگے قدم بڑھائو۔(۶) اپنے رسول کی متابعت کرو اور قرآن کی حکومت اپنے سر پر لے لو کہ وہ خدا کا کلام اور تمہارا سچا شفیع ہے۔(۷) اسلام کی ہمدردی اپنی تمام قوتوں سے کرو۔اور زمین پر خدا کے جلال اور توحید کو پھیلائو۔(۸) مجھ سے اس غرض سے بیعت کرو کہ تا تمہیں مجھ سے رُوحانی تعلق پیدا ہو۔اور میرے درخت وجود کی ایک شاخ بن جائو اور بیعت کے عہد پر موت کے وقت تک قائم رہو۔یہ وہ میرے سلسلہ کے اصول ہیں جو اس سلسلہ کے لئے امتیازی نشان کی طرح ہیں۔جس انسانی ہمدردی اور ترک ایذاء بنی نوع اور ترکِ مخالفت حکام کی یہ سلسلہ بنیاد ڈالتا ہے۔دوسرے مسلمانوں میں اس کا وجود نہیں۔ان کے اصول اپنی بے شمار غلطیوں کی وجہ سے اور طرز کے ہیں جن کی تفصیل کی حاجت نہیں اور نہ یہ ان کا موقع ہے۔اور وہ نام جوا س سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیّہ ہے۔اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات میں مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے۔یعنی مسلمان فرقہ احمدیّہجہاں تک میرے علم میں ہے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ آج تک