مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 145
تیس ہزار کے قریب متفرق مقامات پنجاب اور ہندوستان کے لوگ اس فرقہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اور جو لوگ ایک قسم کی بد عات اور شرک سے بیزار ہیں اور دل میںیہ فیصلہ بھی کر لیتے ہیں کہ ہم اپنی گورنمنٹ سے منافقانہ زندگی بسر کرنا نہیں چاہتے اور صلح کاری اور بُردباری کی فطرت رکھتے ہیں۔وہ لوگ بکثرت اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً عقل مندوں کی اس طرف ایک تیز حرکت ہو رہی ہے اور یہ لوگ محض عوام میں سے نہیں ہیں بلکہ بعض بڑے بڑے معزز خاندانوں میں سے ہیں۔اور ہر ایک تاجر اور ملازمت پیشہ اور تعلیم یافتہ اور علماء اسلام اور رئوسا اس فرقہ میں داخل ہیں۔گو بہت کچھ عام مسلمانوں کی طرف سے یہ فرقہ ایذا بھی پارہا ہے لیکن چونکہ اہل عقل دیکھتے ہیں کہ خدا سے پوری صفائی اور اس کی مخلوق سے پوری ہمدردی اور حکام کی اطاعت میں پوری طیاری کی تعلیم اسی فرقہ میں دی جاتی ہے اس لئے وہ لوگ طبعاً اس فرقہ کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں۔اور یہ خدا کا فضل ہے کہ بہت کچھ مخالفوں کی طرف سے کوششیں بھی ہوئیں کہ اس فرقہ کو کسی طرح نابود کر دیں۔مگر وہ سب کوششیں ضائع گئیں۔کیونکہ جو کام خدا کے ہاتھ سے اور آسمان سے ہو انسان اس کو ضائع نہیں کر سکتا اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیّہاس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ایک محمد صلی اللہ علیہ و سلم۔دوسرا احمد صلی اللہ علیہ و سلم۔اور اسم محمدؐ جلالی نام تھا اور اس میں مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم دُنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی مکّہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا۔اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمدؐ کا ظہور ہوا۔اورمخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی۔لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اِسمِ احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہو گا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی