مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 58
مجموعہ اشتہارات ۵۸ جلد دوم جس طریق سے ایسی درخواست پر لاکھوں دستخط ہو جائیں۔اگر چہ مجھے اپنے دوستوں کی کوششوں پر نظر کر کے حق الیقین کی طرح یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہماری سعی اور جہد سے کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار کے قریب دستخط ہو جائیں گے اور بڑی آسانی سے ہو جائے گی کیونکہ نہایت زور شور سے یہ کارروائی شروع ہے، لیکن جب میں غور کرتا ہوں کہ یہ کس مرتبہ کی درخواست ہے اور اسلام کے لیے کیسے اعلیٰ نتائج اس میں مخفی اور مستور ہیں اور دینی مخالفوں کے لیے قانون پاس ہونے کی حالت میں کیا کیا ناکامیاں اور نامرادیاں دامنگیر ہونے والی ہیں تو میرا دل یہ قطعی فیصلہ دیتا ہے کہ کم سے کم ایسے دستخط دس لاکھ سے کم نہ ہوں اور کچھ شک نہیں کہ علماء اور مولوی صاحبوں کے دستخط ایسی درخواست پر بہت ہی مؤثر ہوں گے کیونکہ گورنمنٹ جانتی ہے کہ مذہبی امور کے بہت سے مصالح کی لگام انہیں کے ہاتھ میں ہے۔ہاں ایسی درخواست کو ایک واجب درخواست بنانے کے لیے ایسے قانون دانوں کے دستخط بھی ضرور ہونے چاہئیں جو نامی وکلاء اور بیرسٹر ہوں۔تا گورنمنٹ کو درخواست پر غور کرنے کے لیے ان لوگوں کے دستخط بطور مؤید کے ہو جائیں، لیکن چونکہ یہ کام بہت عظیم الشان ہے اور مولوی صاحبوں کا کسی طرح سے یہ منشاء نہیں کہ یہ کام ہمارے ہاتھ سے ہو اس لیے امرتسر کے مولوی صاحبوں نے ہماری وجہ سے اس کام کو فضول اور غیر مفید ٹھہرایا۔اور بہتوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمہارا شر پادریوں اور آریوں سے زیادہ ہے اور جابجا اشتہار شائع کر کے اس کارروائی کو روکنا چاہا اور میرے کینے سے روا رکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ وہ ناجائز افتراء ہوتے رہیں جو مومنوں کے دلوں کو پاش پاش کرتے ہیں۔جیسا ابھی پادری ٹی ولیمس ریواڑی نے وہ افتراء کیا اور وہ گندی گالیاں دیں کہ کسی ادنیٰ حیثیت کے آدمی کو بھی نہیں دی جاتیں۔پس میں نے سوچا کہ چونکہ مولویوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی کچھ بھی پروانہ کرنا دراصل میرے ہی کینہ کی وجہ سے ہے، ایسا نہ ہو کہ ان کی معصیت میں میں بھی شریک سمجھا جاؤں۔اس لیے میں نے مولوی محمد حسین صاحب کی درخواست پر اس کام سے اپنے تئیں علیحدہ کرنا مناسب سمجھا کیونکہ دراصل ان علماء کی لا پروائی اور سخت دلی کا باعث میرا ہی وجود ہے اور میرے کینے سے یہ روا رکھا جاتا ہے کہ جو کچھ