مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 57

مجموعہ اشتہارات جلد دوم میں بھی اپنے دستخط اور بہت سے لوگوں کے دستخط کرا کر بھیجوں گا مگر ابھی ان کی کارروائی میرے پاس نہیں پہنچی۔خدا اُن کو بھی اس کا بہت اجر دے۔آمین ۲۰۷۵ بہر حال اب تک دو ہزار پچہتر دستخط اکثر معزز لوگوں کے ہو کر میرے پاس پہنچے جن میں بعض علماء اور بعض رئیسان پنجاب ہندوستان اور بعض عہدہ داران تحصیلدار وغیرہ اور بعض انگریزی دفتروں کے کلرک و ہیڈ کلرک اور بعض وکلاء اور مختار کاران اور بعض نامی تاجران پنجاب و ہندوستان ہیں ،اس کام میں وہ بڑے صدق سے پیش قدم ہوئے ، خدا تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔غرض اس کا رروائی کے لیے پشاور اور حیدرآباد اور بمبئی اور کلکتہ اور اٹاوہ اور مدراس وغیرہ بلاد ہندوستان اور پنجاب میں اس عاجز کے مخلص سرگرمی سے کوشش کر رہے ہیں۔اور ہر روز اُن کی کارروائی کے نقشے پہنچتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارے سب دوستوں کو اپنی خاص رحمتوں سے متمتع فرمادے۔اور میں اس وقت نواب محسن الملک سید مہدی علی خاں صاحب مقیم علی گڑھ کے تلطف اور مہربانی کا بھی شکر کرتا ہوں کہ انہوں نے بھی اس موقعہ پر نہایت ہمدردی سے خط لکھا۔اور ان کے خط سے مترشح ہوا کہ وہ کثرتِ رائے اور اجتماع اہل بصیرت کے بعد دستخط کرنے کو تیار ہیں اور انہوں نے اپنے خط میں بہت ہی اُمید دلائی کہ وہ کسی طرح ہمدردی دینی سے دریغ نہیں کریں گے۔غرض ہماری کارروائی اس حد تک پہنچی تھی۔اور ابھی پشاور اور کلکتہ اور مدراس اور بمبئی اور حیدر آباد کے دوستوں کی کارروائی ہمیں موصول نہیں ہوئی تھی کہ مولوی محمد حسین صاحب نے ۲۱ / اکتوبر ۱۸۹۵ء کو اپنا رسالہ ایک چٹھی رساں کے ہاتھ بھیج دیا۔اس رسالہ میں بہت زور کے ساتھ مولوی صاحب نے دعوی کیا ہے کہ یہ کام فقط مجھ سے ہی کامیابی کے ساتھ انجام پذیر ہوگا کسی دوسرے سے نہیں۔تب میں نے خیال کیا کہ شاید یہ دعویٰ صحیح ہو کیونکہ مولوی صاحب موصوف ایک گروہ کثیر کے ہم خیال ہیں۔اور میں دیکھتا ہوں کہ اس قانون کے پاس کرانے کے لیے جس میں پاس کے بعد فریق مخالف اسلام پر نہایت مشکلات پڑیں گے اور جہاں تک ممکن ہوگا زور لگائیں گے کہ گورنمنٹ کو اس قانون کے پاس کرنے سے روک دیا جاوے وجہ یہ کہ اس سے ان کی پُر خیانت کا رروائیاں یک لخت بند ہو جائیں گی۔لہذا اس وقت وہ طریق اختیار کرنا مناسب ہے