مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 59

مجموعہ اشتہارات ۵۹ جلد دوم مخالف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دیتے رہیں بلکہ ان کو معذور اور نا قابل الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔تو اس صورت میں اگر میرا قدم درمیان نہ ہونے سے مولوی صاحبان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ غیرت دکھلاویں اور اس گناہ سے اپنے تئیں بچالیں جو میری وجہ سے جھوٹے بہانوں کے ساتھ اُن کو اختیار کرنا پڑا تو یقین ہے کہ مجھے اس سے ثواب ملے گا۔اصل غرض تو یہ ہے کہ آنحضرت صلعم اور دین اسلام کی حمایت کے لیے ایک کام کا انجام دیا جاوے۔سو مناسب نہیں کہ میری وجہ سے وہ کام حیز التواء میں رہ جاوے۔اگر چہ میرا دل دینی خدمت سے استعفاء نہیں دیتا۔اور اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلعم کی راہ میں فدا ہے اور ہو گا جب تک کہ میں اس جہان سے گذر جاؤں۔وَ وَاللَّهِ إِنَّ حَيَاتِي وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔لیکن میری اس میں کون سی کسر شان ہے کہ میں چند الفاظ سے اپنے اندرونی مخالفوں کو خوش کر کے ان کے ہاتھ سے رسول اللہ صلعم کے لیے ایسی خدمت لوں۔اس لیے میں بڑی خوشی سے مولوی ابوسعید محمدحسین صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ اس چاکری کو قبول کرتے ہیں اور صدق دل سے کمر باندھنے کو تیار ہیں تو میں اس کام اور شغل سے اپنے تئیں فارغ کرتا ہوں۔اور آپ کے وعدے پر بھروسہ کر کے میری طرف سے یہی تحریر بطور استعفاء ہے۔سویا در ہے کہ ہم اپنا اور اپنے گروہ کا استعفاء اس شرط سے پیش کرتے ہیں کہ آپ اپنے وعدہ کو پورا کریں یا اور ہمیں کسی ناموری کی ہوس نہیں اور نہ کسی شکر کی خواہش۔لے حاشیہ۔مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے جو کچھ آخر کرنا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے مگر بالفعل تو انہوں نے ہمارے چلتے کام کو روک دیا۔اس بات کے اظہار کی کچھ حاجت نہیں کہ بڑے زور سے یہ کارروائی تمام پنجاب اور ہندوستان میں چل رہی تھی۔چنانچہ آج کی تاریخ ۲ را کتوبر ۱۸۹۵ء تک دستخط کرنے والوں کا عدد دوہزار پچہتر تک پہنچ گیا۔یہ لوگ کچھ عوام الناس میں سے نہیں۔بلکہ گورنمنٹ کے معزز عہدہ دار اور وکلاء اور مختار کاران اور رئیسان پنجاب و ہندوستان و معز ز سوداگر اس میں بکثرت داخل ہیں اور ابھی بہت سے شہر باقی ہیں۔جن سے دستخط ہو کر واپس نہیں آئے۔اگر چہ مولوی صاحب موصوف نے اس کام کے وقت بھی اپنی معمولی درندگی کو نہیں چھوڑا بلکہ سب وشتم کے الفاظ زور سے ظاہر کئے۔مگر ہم نہیں چاہتے کہ اس وقت اپنے بد گو کو بد گوئی سے یاد کر کے ایک اور بحث