مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 605
مجموعہ اشتہارات جلد دوم شائع ہونے کی گواہی دی ہے۔اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے۔یے اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرات سے کہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا۔یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو ہیں برس کا زمانہ ہے۔ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکور بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خودغرض کا کام نہیں ہے بلکہ ایک ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خوا ہی ہے۔ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شایع کرتا رہا ہوں۔اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جبکہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پر چہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریری شایع ہوئیں۔اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈا کو تھا۔چور تھا۔زنا کا رتھا۔اور صد ہا پر چوں میں یہ شایع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔تب میں نے اُن جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک خریسطفور جبارہ نام ایک دمشق کا رہنے والا فاضل عیسائی اپنی کتاب خلاصتہ الادیان کے صفحہ چوالیس میں میری کتاب حمامتہ البشرکی کا ذکر کرتا ہے اور حمامۃ البشری میں سے چھ سطریں بطور نقل کے لکھتا ہے اور میری نسبت لکھتا ہے کہ یہ کتاب ایک ہندی فاضل کی ہے جو تمام ملک ہند میں مشہور ہے دیکھو خلاصة الاديان و زبدة الایمان صفحه ۲۴ چودہویں سطر سے اکیسویں سطر تک۔منہ