مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 604 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 604

مجموعہ اشتہارات ۶۰۴ جلد دوم سب کے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے میرے والد موصوف کو ضرورت کے وقتوں میں گورنمنٹ کی خدمت کرنے میں کیسا پایا۔اور اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے ۱۸۵۷ء کے مفسدہ کے وقت اپنی تھوڑی سی حیثیت کے ساتھ پچاس گھوڑے مع پچاس جوانوں کے اس محسن گورنمنٹ کی امداد اور خدمت کے لئے دیئے اور ہر وقت امدا د اور خدمت کے لئے کمر بستہ رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے گزر گئے۔والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور وہ خاندان مغلیہ میں سے ایک تباہ شدہ ریاست کے بقیہ تھے جنہوں نے بہت سی مصیبتوں کے بعد گورنمنٹ انگریزی کے عہد میں آرام پایا تھا۔یہی وجہ تھی کہ وہ دل سے اس گورنمنٹ سے پیار کرتے تھے اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح ان کے دل میں پھنس گئی تھی۔اُن کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے اس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لئے پسند کر لیا لیکن میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کی۔ہیں برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے بچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دست بردار ہو جائیں اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ اُن کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکر گزار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں۔یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں۔چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے