مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 606
مجموعہ اشتہارات جلد دوم میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہوئے تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل تختی تھی کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں اُن کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزار ہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے یک دفعہ اُن کے اشتعال فرو ہو گئے کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔باایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ نسبت نہ تھی۔ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہر گز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسی علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دورہ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسی علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔سوکسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے۔اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو چکے ہیں ایک عزت سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں جس کی تفصیل کے لئے اس جگہ موقع نہیں۔سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔اور میں دعوی سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اول درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں لے ان مباحثات کی کتابوں سے ایک یہ بھی مطلب تھا کہ برٹش انڈیا اور دوسرے ملکوں پر بھی اس بات کو واضح کیا جاوے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو مباحثات کے لئے آزادی دے رکھی ہے کوئی خصوصیت پادریوں کی نہیں ہے۔منہ