مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 593
مجموعہ اشتہارات ۵۹۳ جلد دوم اور اخبار عام میں کمال حق پوشی کی راہ میں یہ شائع کر دیا تھا کہ وہ مقدمہ جو پولیس کی رپورٹ پر مجھ پر اور اُن پر دائر کیا گیا تھا جو ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء میں فیصلہ ہوا اس میں گویا یہ عاجز بری نہیں ہوا بلکہ ڈسچارج ہوا اور بڑے زور شور سے یہ دعوی کیا تھا کہ فیصلہ میں مسٹر ڈوئی صاحب کی طرف سے ڈسچارج کا لفظ ہے اور ڈسچارج بری کو نہیں کہتے بلکہ جس پر جرم ثابت نہ ہو سکے اس کا نام ڈسچارج ہے اور اس اعتراض سے محمد حسین کی غرض یہ تھی کہ تا لوگوں پر یہ ظاہر کرے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ ہم کتاب تریاق القوب کے صفحہ ۸۱ میں تحریر کر چکے ہیں یہ اس کی طرف سے محض افترا تھا اور دراصل ڈسچارج کا ترجمہ بری ہے اور کچھ نہیں اور اس نے عقل مندوں کے نزدیک بری کے انکار سے اپنی بڑی پردہ دری کرائی کہ اس بات سے انکار کیا کہ ڈسچارج کا ترجمہ بری نہیں ہے۔چنانچہ اسی صفحہ مذکورہ یعنی صفحہ ۸ میں بہ تفصیل میں نے لکھ دیا ہے کہ انگریزی زبان میں کسی کو جرم سے بری سمجھنے یا بری کرنے لئے دو لفظ استعمال ہوتے ہیں (۱) ایک ڈسچارج (۲) دوسرے ایکسٹ۔ڈسچارج اُس جگہ بولا جاتا ہے کہ جہاں حاکم مجوز کی نظر میں جرم کا ابتدا سے ہی کچھ ثبوت نہ ہو اور تحقیقات کے تمام سلسلہ میں کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو جو اس کو ایسا مجرم ٹھہرا سکے اور فرد قرارداد جرم قائم کرنے کے لائق کر سکے۔غرض اس کے دامن عصمت پر کوئی غبار نہ پڑ سکے اور بوجہ اس کے کہ جُرم کے ارتکاب کا کچھ بھی ثبوت نہیں ملزم کو چھوڑا جائے۔اور ایکٹ اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں اوّل مجرم ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد جُرم لگائی جائے اور پھر مجرم اپنی صفائی کا ثبوت دے کر اس الزام سے رہائی پائے۔غرض ان دونوں لفظوں میں قانونی طور پر فرق یہی ہے کہ ڈسچارج وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں سرے سے جرم ثابت ہی نہ ہو سکے اور ایکسٹ وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں جرم تو ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد بھی لگ جائے مگر آخر میں ملزم کی صفائی ثابت ہو جائے اور عربی میں بریت کا لفظ ایک تھوڑے سے تصرف کے ساتھ ان دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے یعنی جب ایک ملزم ایسی حالت میں چھوڑا جائے کہ اس کے دامن عصمت پر کوئی دھبہ جرم کا لگ نہیں سکا اور وہ ابتدا سے کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں گیا کہ وہ مجرم ہے یہاں تک کہ جیسا کہ وہ داغ سے پاک عدالت کے کمرہ میں آیا ویسا