مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 594 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 594

مجموعہ اشتہارات ۵۹۴ جلد دوم ہی داغ سے پاک عدالت کے کمرہ سے نکل گیا۔ایسی قسم کے ملزم کو عربی زبان میں بری کہتے ہیں اور جب ایک ملزم پر مجرم ہونے کا قوی طبہ گذر گیا اور مجرموں کی طرح سے اُس سے کارروائی کی گئی اور اس تمام ذلّت کے بعد اُس نے اپنی صفائی کی شہادتوں کے ساتھ اس شبہ کو اپنے سر پر سے دُور کر دیا تو ایسے ملزم کا نام عربی زبان میں مُبرء ہے۔پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ ڈسچارج کا عربی میں ٹھیک ٹھیک ترجمہ بری ہے اور ایکسٹ کا ترجمہ مُبرَّءُ ہے۔عرب کے یہ دو مقولے ہیں کہ اَنَا بَرِيءٌ مِّنْ ذَالِكَ وَأَنَا مُبَرَّءُ مِّنُ ذَالِكَ پہلے قول کے یہ معنے ہیں کہ میرے پر کوئی تہمت ثابت نہیں کی گئی اور دوسرے قول کے یہ معنے ہیں کہ میری صفائی ثابت کی گئی ہے اور قرآن شریف میں یہ دونوں محاورے موجود ہیں۔چنانچہ بُری کا لفظ قرآن شریف اور بعینہ ڈسچارج کے معنوں پر بولا گیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَمَنْ تَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيْئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانَاوَ اثْمًا مبينا له الجز نمبر ۵ سوره نساء - یعنی جو شخص کوئی خطا یا کوئی گناہ کرے اور پھر کسی ایسے شخص پر وہ گناہ لگاوے جس پر وہ گناہ ثابت نہیں تو اُس نے ایک کھلے کھلے بہتان اور گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر لیا اور مبرء کی مثال قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَبِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُون ہے یہ اس مقام کی آیت ہے کہ جہاں بے لوث بے گناہ ہونا ایک کا ایک وقت تک مشتبہ رہا۔پھر خدا نے اس کی طرف سے ڈیفنس پیش کر کے اس کی بریت کی۔اب آیت يَـرم بـه بَرِينا سے یہ ہداہت ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے شخص کا نام بُری رکھا ہے جس پر کوئی گناہ ثابت نہیں کیا گیا۔اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو انگریزی میں ڈسچارج کہتے ہیں۔لیکن اگر کوئی مکابرہ کی راہ سے یہ کہے کہ اس جگہ بری کے لفظ سے وہ شخص مراد ہے جو مجرم ثابت ہونے کے بعد اپنے صفائی کے گواہوں کے ذریعہ سے اپنی بریت ظاہر کرے تو ایسا خیال بدیہی طور پر باطل ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا بُری کے لفظ سے یہی منشاء ہے تو اس سے یہ خرابی پیدا ہو گی کہ اس آیت سے یہ فتوی ملے گا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص پر جس کا گناہ ثابت نہیں کسی گناہ کی تہمت لگانا کوئی جرم نہیں ہوگا گووہ ا النساء :١١٣ النور: ۲۷