مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 577
مجموعہ اشتہارات ۵۷۷ جلد دوم کے برخلاف اس مجرمانہ خیانت کو جو سب سے بڑی اور سب سے زیادہ منتظم و مہذب اسلامی سلطنت کے وائس قونصل کی جانب سے بڑی بے دردی کے ساتھ عمل میں آئی اپنے ان کانوں سے سننا اور پبلک پر ظاہر کرنا پڑا ہے جو کیفیت جناب مولوی حافظ عبدالرحمن صاحب الہندی نزیل قسطنطنیہ نے ہمیں معلوم کرائی ہے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حسین یک کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ مظلومان کریٹ کے روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا اور کارکن کمیٹی چندہ نے بڑی فراست اور عرقریزی کے ساتھ ان سے روپیہ اگلوایا۔مگر یہ دریافت نہیں ہوا کہ وائس قونصل مذکور پر عدالت عثمانیہ میں کوئی نالش کی گئی یا نہیں۔ہماری رائے میں ایسے خائن کو عدالتانہ کا رروائی کے ذریعہ عبرت انگیز سزا دینی چاہیے۔بہر حال ہم امید کرتے ہیں کہ یہی ایک کیس غبن کا ہو گا جو اس چندہ کے متعلق وقوع میں آیا ہو۔اور جو ر قوم چندہ جناب ملا عبدالقیوم صاحب اول تعلقہ دار لنگسگور اور جناب عبدالعزیز بادشاہ صاحب ٹرکش قونصل مدراس کی معرفت حیدر آباد اور مدراس سے روانہ ہوئیں وہ بلا خیانت قسطنطنیہ کو کمیٹی چندہ کے پاس برابر پہنچ گئی ہوں گی۔“ "قسطنطنیہ کی چٹھی" ”ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گذشتہ دو سالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عساکر حرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کر کے قونصل ہائے دولت علیہ ترکیہ مقیم ہند کو دیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہر زر چندہ تمام و کمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا۔اور اس امر کے باور کرنے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ حسین پک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کو جو ایک ہزار چھ سو روپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر اور مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لا ہور نے مختلف مقامات سے وصول کر کے بھیجا تھا وہ سب غبن کر گیا۔ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہنچائی۔مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہنچی تو اس نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس روپیہ کے