مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 576
مجموعه اشتہارات ۵۷۶ جلد دوم الہامات سے اکثر مسلمان جوش میں آگئے اور بعض نے میری نسبت لکھا کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔اب ہم ذیل میں بتلاتے ہیں کہ ہماری یہ پیشگوئی بچی نکلی یا جھوٹی واضح ہو کہ عرصہ تخمینا دو ماہ یا تین ماہ کا گذرا ہے کہ ایک معزز ترک کی معرفت ہمیں یہ خبر ملی تھی کہ حسین کا می مذکور کو ایک ارتکاب جرم کی وجہ سے اپنے عہدہ سے موقوف کیا گیا ہے اور اُس کی املاک ضبط کی گئی۔مگر میں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کر کے شائع نہیں کیا تھا کہ شاید غلط ہو۔آج اخبار نیر آصفی مدراس مورخه ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصل طور پر معلوم ہو گیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت کامل صفائی سے پوری ہو گئی۔ہماری وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اس کو کی تھی کہ تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں شائع کر دیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداش کردار کو پہنچ گیا۔اور اب وہ ضرور اس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا مگر افسوس یہ ہے کہ وہ اس ملک کے بعض ایڈیٹر ان اخبار اور مولویان کو بھی جو اس کو نائب خليفة ا المسلمین اور رکن امین سمجھ بیٹھے تھے اپنے ساتھ ہی ندامت کا حصہ دے گیا۔اور اس طرح پر انہوں نے ایک صادق کی پیشگوئی کی تکذیب کا مزہ چکھ لیا۔اب ان کو چاہیے کہ آئندہ اپنی زبانوں کو سنبھالیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے بار بار ان کو خجالت پہنچ رہی ہے۔اگر وہ سچ پر ہیں تو کیا باعث کہ ہر ایک بات میں آخر کار کیوں ان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔اب ہم اخبار مذکور میں سے وہ چٹھی مع تمہیدی عبارت کے ذیل میں نقل کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔چندہ مظلومان کریٹ اور ہندوستان“ ہمیں آج کی ولایتی ڈاک میں اپنے ایک معزز اور لائق نامہ نگار کے پاس سے ایک قسطنطنیہ والی چٹھی ملی ہے جس کو ہم اپنے ناظرین کی اطلاع کے لئے درج ذیل کئے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کمال افسوس ہوتا ہے۔افسوس اس وجہ سے کہ ہمیں اپنی ساری امیدوں