مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 492

مجموعہ اشتہارات ۴۹۲ جلد دوم کے بجالانے میں ہر وقت جان اور مال اور عزت کا اندیشہ تھا یہاں تک کہ بلند آواز میں بانگ دینے سے مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے۔اس وقت سُلطان روم کہاں تھا؟ آخر انگریز ہی تھے جو ہمارے چھوڑانے کے لئے عُقاب کی طرح دُور سے آئے اور صدہا دینی روکوں سے ہمیں آزادگی دی۔یہ بڑی بدذاتی ہوگی کہ ہم اس سے انکار کریں کہ گورنمنٹ انگریزی کے وجود سے دینی فوائد ہمیں کچھ بھی نہیں پہنچا۔بلا شبہ پہنچا ہے بلکہ سُلطان روم سے زیادہ پہنچا ہے۔اس گورنمنٹ کے آنے سے ہم اپنے فرائض مذہبی آزادی سے ادا کرنے لگے۔ہمارے مذہبی مدر سے کھل گئے۔ہمارے واعظ خوب تسلی سے وعظ کرنے لگے۔سکھوں کے وقت کسی ہندو کو مسلمان کرنے سے اکثر خون ہو جاتے تھے۔صدہا مسلمان اسی وجہ سے قتل کئے گئے بلکہ آگ میں جلائے گئے اور درندوں کے آگے ڈالے گئے۔اب انگریزی عمل داری کا جھنڈا ہمارے ملک میں کھڑا ہونے سے ہزار ہا ہندو مسلمان ہو گئے ہزار ہادینی کتابیں شائع ہو گئیں اور مسلمانوں نے اعلیٰ درجہ تک دینی علوم میں ترقی کی اور ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث ہے۔اب کس قدر نا شکری بلکہ بدذاتی ہوگی کہ ہم ان تمام احسانوں کو اندر ہی اندرد با دیں اور اس شکر کا اقرار نہ کریں جو انصاف کے رو سے ہمیں کرنا لازم ہے۔کیا یہ سچ ہے کہ انگریزی سلطنت سے ہمیں امن اور آزادی اور دینی فائدہ نہیں پہنچا ؟ ہر گز سچ نہیں۔پھر محد حسین کا یہ قول کہ وہ یہ تمام احسانات سلطان روم کی طرف منسوب کرتا ہے کس قدر بے انصافی اور ظلم پر مبنی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ ہم لوگ انگریزوں کی اطاعت محض پولیٹیکل نظر سے کرتے ہیں ورنہ دینی حمایت ان کی طرف سے کچھ بھی نہیں یہ سب سلطان کی طرف سے ہے۔یہ دونو فقرے اس کے ایسے برے اور گندے اور فتنہ انگیز ہیں کہ اگر میرے منہ سے بھی نکلتے تو میں ضرور اپنے اوپر فتویٰ دیتا کہ میں نے سرکار انگریزی کے بے شمار دینی احسانوں کے مقابل سخت نا شکر گزاری اور نمک حرامی کا