مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 491
مجموعہ اشتہارات ۴۹۱ جلد دوم ہر ایک نے اس کو کذاب اور دقبال کہا ہے لے رہا یہ امر کہ اب گورنمنٹ عالیہ اس کی نسبت کیا رائے رکھتی ہے۔سو ہماری دانا گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سوچ سکتی ہے کہ ایسا منافق جس نے گورنمنٹ کے سامنے جھوٹ بولا کہ میں یہ کارروائی کر رہا ہوں کہ خونی مہدی کے آنے کے خیالات لوگوں کے دل سے مٹا دوں اور مولویوں کو یہ لکھ لکھ کر دیتا رہا کہ اس اعتقاد پر پختہ رہو کہ مہدی خونی فاطمہ کی اولاد سے ضرور آئے گا۔اور کہتا رہا کہ جو شخص یہ اعتقاد چھوڑتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے ایسے منافق کے قول اور فعل کا کیا اعتبار ہے اور کون سا فائدہ اس کے وجود سے گورنمنٹ کو پہنچ سکتا ہے۔پھر دوسری خیانت جو اس کی ذلت کا موجب ہے یہ ہے کہ اس نے گورنمنٹ پر یہ ظاہر کیا ہے کہ میں سلطان روم کو خلیفہ برحق نہیں سمجھتا کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں اور پھر اپنی اشاعۃ السنه نمبر ۵ جلد ۱۸ صفحہ ۱۴۳ سطر ۶ میں میری مخالفت کے لئے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ حضرت ن المعظم۔مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور خلیفہ برحق ہیں ان سے استغنا موجب کفر ہے اب اس جگہ اس نے سلطان روم کو خلیفہ برحق مان لیا ہے اور انگریزی سلطنت کی نسبت اُسی صفحہ میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اُن کی اطاعت پولیٹیکل نظر سے یعنی محض منافقانہ طور پر اور مصلحت وقت کے لحاظ سے کرنی چاہیے۔مگر مذہبی نظر سے یعنی دلی اخلاص صرف سلطان ہی واجب الاطاعت ہے۔‘ اس تقریر میں اس نے یہ خیانت کی ہے کہ جو مذہبی آزادی اور مذہبی فوائد ہمیں سلطنت انگریزی سے پہنچے ہیں ان سب کا انکار کر دیا ہے اور سر کا رانگریزی کے ایک ثابت شدہ احسان کا خون کر دیا ہے اور یہ نہیں سوچا کہ سکھوں کے وقت میں جب ہمارے تمام دینی فرائض رو کے گئے تھے اور مذہبی احکام لے یہ شخص یعنی محمد حسین اپنے تئیں اہلحدیث علماء کا سرگروہ اور ایڈووکیٹ ظاہر کرتا ہے۔اس صورت میں ضروری ہے کہ جو گروہ کا اعتقاد ہو وہی سرگروہ کا ہو چنانچہ وہ خود بھی رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر ۵ جلد ۱۳ میں مہدی خونی کی نسبت اپنا اعتقاد ظاہر کرتا ہے۔منہ سلطانا