مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 493
مجموعہ اشتہارات ۴۹۳ جلد دوم کلمہ استعمال کیا ہے۔ان لوگوں نے اسی بنا پر مجھے کا فرٹھہرایا تھا جبکہ میں نے سلطان روم کے مقابل گورنمنٹ انگریزی کے احسانات کو تر جمیع دی تھی جس کی نسبت سید احمد خانصاب کے سی ایس آئی نے اپنے علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الاخلاق ۲۴ / جولائی ۱۸۹۷ء میں میری گواہی تھی۔اب خلاصہ کلام یہ کہ حیادار آدمی کے لئے یہ ذلت بھی کچھ تھوڑی نہیں کہ گورنمنٹ کے سامنے جھوٹ بولا اور اپنی قوم سے بھی اپنی نسبت کا فر اور کذاب اور مفتری کا فتویٰ سُنا۔سو بلا شبہ وہ الہامی پیشگوئی اس پر پوری ہوگئی جس میں لکھا تھا کہ فریق ظالم اسی قسم کی ذلت دیکھے گا جو اُس نے فریق مظلوم کی۔اب ذیل میں مولویوں کا وہ فتویٰ جس میں مولوی نذیرحسین محمد حسین کا اُستاد بھی شامل ہے لکھتا ہوں اور ناظرین پر اس بات کا انصاف چھوڑتا ہوں کہ میرے الہام ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو غور سے پڑھ کر خود گواہی دیں کہ خدا تعالیٰ نے کیسے وہی الفاظ محمد حسین کی نسبت مولویوں کے منہ سے نکالے جو محد حسین نے میری نسبت کہے تھے اور یہی معنے اس الہامی فقرہ کے ہیں کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا۔نقل فتوی شامل ہذا ہے۔راقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ۳ / جنوری ۱۸۹۹ء