مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 385
مجموعہ اشتہارات ۳۸۵ جلد دوم (۲) بابت ترکوں کے آپ کے اسی اشتہار (میرے عرضی دعوی کے ) میری تسلی ہو گئی۔جس قدر آپ نے نکتہ چینی فرمائی وہ ضروری اور واجبی تھی۔(۳) بابت حضرت مسیح کے بھی ایک بے وجہ الزام پایا گیا۔گو یسوع کے حق میں آپ نے کچھ لکھا ہے جو ایک الزامی طور پر ہے جیسا کہ ایک مسلمان شاعر ایک شیعہ کے مقابل میں حضرت مولا نا علی کے بارے میں لکھتا ہے۔آں جوانے بروت مالیده * بہر جنگ و و غا سگالیده برخلافت دلش بسے مائل * لیک بوبکر شد میاں حائل تو بھی حضرت اگر ایسا نہ کرتے میرے خیال میں تو اچھا ہوتا۔جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔۔۔۔مگر ان باتوں کے علاوہ جس سے میرا دل تڑپ اُٹھا اور اس سے یہ صدا آنے لگی کہ اُٹھ اور معافی طلب کرنے میں جلدی کر۔ایسا نہ ہو کہ تو خدا کے دوستوں سے لڑنے والا ہو۔خداوند کریم تمام رحمت ہے۔كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ دنیا کے لوگوں پر جب عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے بندوں کی ناراضی کی وجہ سے۔مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا سے آپ کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے تو کون ہے جو الہی سلسلہ میں دخل دیوے۔خداوند کی اُس آخری عظیم الشان کتاب کی ہدایت یاد آئی جو مومن آل فرعون کے قصہ میں بیان فرمائی گئی کہ جو لوگ خدائی سلسلہ کا ادعا کریں اُن کی تکذیب کے واسطے دلیری اور پیش دستی نہ کرنی چاہیے نہ یہ کہ اُن کا انکار کرنا چاہیے۔اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمُ کے مگر یہ صرف میرا دلی خیال ہی نہیں رہا بلکہ اس کا ظاہری اثر محسوس ہونے لگا۔کچھ ایسی بنائیں خارج میں پڑنے لگیں جس میں۔۔(اَعُوذُ بِاللهِ ) مصداق ہو جانے لگا ( یعنی آثار خوف ظاہر ہوئے ) چودہ سو برس ہونے کو آتے ہیں کہ خدا کے ایک برگزیدہ کے منہ سے یہ لفظ ہماری قوم کے حق میں نکلے تو کیا ؟ قدرت کو هَبَاءً مَّنثُورًا کرنے کا خیال ہے (تُبتُ إِلَيْكَ يَا رَبِّ) کہ پھر ایک مقبول الہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔النحل : ١٢٦ بنی اسراءيل: ١٦ ٣ المؤمن: ٢٩