مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 386

مجموعہ اشتہارات ۳۸۶ جلد دوم پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اڑتے ہوئے دکھائی دیئے (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا ) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں ( مجھ کو حاضر ہونے میں کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں ) شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔امید که بارگاہِ اقدس سے بھی آپ راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے که نَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزُمًا۔قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمد أو جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابلِ راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ میں ہوں حضور کا مجرم ( دستخط بزرگ) راولپنڈی۔۲۹/اکتوبر۹۷“ یہ خط بزرگ موصوف کا ہے جس کو ہم نے بعض الفاظ تذلل وانکسار کے حذف کر کے چھاپ دیا ہے۔اس خط میں بزرگ موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کو اس عاجز کی قبولیت دعا کے بارے میں الہام ہوا تھا۔اور نیز اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خارجاً بھی آثار خوف دیکھے جن کی وجہ سے زیادہ تر دہشت ان کے دل پر طاری ہوئی اور قبولیت دعا کے نشان دکھائی دیئے۔پس اس جگہ یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ ڈپٹی آتھم کی نسبت جو کچھ شرطی طور پر بیان کیا گیا تھا وہ بیان بالکل اس بیان سے مشابہ ہے جو اس بزرگ کی نسبت کیا گیا یعنی جیسا کہ اس عذابی پیشگوئی میں ایک شرط رکھی گئی تھی ویسا ہی اس میں بھی ایک شرط تھی اور ان دونوں شخصوں میں فرق یہ ہے کہ یہ بزرگ ایمانی روشنی اپنے اندر رکھتا تھا اور سچ سے محبت کرنے کی سعادت اس کے جوہر میں تھی لہذا اس نے آثار خوف دیکھ کر اور خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اس کو پوشیدہ کرنا نہ چاہا اور نہایت تذلیل اور انکسار سے جہاں تک کہ انسان تذلیل کر سکتا ہے تمام حالات صفائی سے لکھ کر اپنا معذرت نامہ بھیج دیا۔مگر آٹھم