مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 384

مجموعہ اشتہارات ۳۸۴ جلد دوم کیسا مصیبت اور امتحان کا وقت مسلمانوں پر آپڑے گا کہ یا تو وہ بال بچہ گھر بار پیارے وطن کو الوداع کہہ کے ان پاک معبدوں کی طرف چل پڑیں یا اس ابدی اور جاوید زندگی ایمان سے دست بردار ہو جا ئیں۔رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا یہی راز ہے جو مسلمان ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں ان کے دین و دنیا کی خیر ہے۔ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانانِ ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہمارے پچھلی صدی کے عالمگیر کی تباہی میں جبکہ مرہٹوں وسکھوں کے ہاتھ سے مسلمانانِ ہند بردباد ہورہے تھے ہماری کوئی خبر انہوں نے نہیں لی۔اس شکریہ کی مستحق صرف سرکار انگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک بچے راہ نما کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ عاجزی سے گڑ گڑا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہ گار تھے تو بجائے اس کے کہ اُن کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ الٹا ہنسی سے ایسی بات بنائی جاتی۔(۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہ الہی کے حق میں شایان شان نہ تھے جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے جن کے حق میں یہ خطاب ہو۔وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ پھر اس کی تو ہین اور اہانت کیونکر ہوسکتی۔یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور ان کی تجسس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار تر کی سفیر کے بارے میں جو نکلا۔پیش ہوا تو بیساختہ میرے منہ سے ( سوا کسی اور کلام کے ) مثنوی کا بیت نکل گیا جس پر آپ کو رنج ہوا ( اور رنج ہونا چاہیے تھا ) (۱) رسالت کے دعوئی کے بارے میں مجھ کو خو د ازالہ اوہام کے دیکھنے سے و نیز آپ کی وہ روحانی اور مُردہ دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسہ مذاہب لا ہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہوگئی جو محض افتر اے و بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔البقرة: ۲۸۷ ال عمران: ۴۶