مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 10
مجموعہ اشتہارات جلد دوم کا بھی فرض ہے کہ اپنے پتی کی اجازت سے نیوگ کر اوے اور کسی بیرج دا تا کو اپنے گھر میں بلاوے اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے یعنی اسی گھر میں اس عورت سے صحبت کرے اور ایک دراز مدت تک کرتا رہے۔اب آپ لوگ معاف فرما دیں کہ ہم نے آپ کے دید کی تعلیم کا یہ حصہ اس غرض سے نہیں لکھا کہ آپ کے دلوں کو دکھاویں بلکہ صرف اس استفسار کی غرض سے تحریر کیا ہے کہ کیا آپ لوگ ایسی شرتیوں کو بھی ایشر بانی سمجھتے ہیں اور کیا آپ لوگوں میں سے کسی کی انسانی حمیت اور غیرت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ اس کے جیتے جی نیوگ کے بہانہ سے اس کا چھوٹا بھائی یا برادری میں سے کوئی مشٹنڈا اس کی پیاری بیوی پر صحبت کی غرض سے حملہ کرے بلکہ باجازت دید کام بھی کر ڈالے یا کوئی برہمن اس کی عورت کے ساتھ ایسی حرکت کا مرتکب ہو اور وہ با وجود قوت اور شہوت اور طاقت اور روبرو موجود ہونے کے الگ ہو بیٹھے اور کچھ چوں نہ کرے بلکہ پاس کی کوٹھڑی میں خاموش بیٹھا رہے اور اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ ایک اجنبی اس کی سہروں کی منکوحہ اور برات کی بیاہتا سے جو نام ونگ کے خاندان سے آئی تھی ہم خواب اور بغلگیر ہے اور صرف بوس و کنار پر بس نہیں کیا بلکہ حرکت زنا سے اس کم بخت خاوند کی ساری پت اور عزت کو خاک میں ملادیا اور پھر بھی ذرا غیرت اس کی جوش نہ مارے۔اے آریہ صاحبان میں اس وقت تمہارے ہی پر میشر کی تمہیں قسم دیتا ہوں اور تمہاری ہی کانشنس کی شہادت تم سے چاہتا ہوں کہ کیا تمہاری مردانہ غیرت اور شریفانہ جمیت اس بات پر برداشت کر سکتی ہے کہ یہ بے شرمی کا کام تمہارے گھر میں اور تمہاری نظر کے سامنے ہو اور تم چپکے اس کو دیکھتے رہو اور ایسی تعلیموں سے بیزار نہ ہو۔جنہوں نے یہ دن تمہیں دکھلائے اور لعنت کا طبق تمہارے گلے میں ڈالا۔میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ کس قدر ایک شریف انسان کو قدرتی اور طبعی طور پر اپنی عورت کے لئے حمیت اور غیرت ہوتی ہے یہاں تک کہ اس قدر بھی روا نہیں رکھتا کہ اس کے گھر سے اس کی بیوی کی اونچی آواز اٹھے اور اجنبی لوگ اس کو سنیں یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک غیرت مند انسان تھوڑے ظن کے ساتھ اپنی عورت کو قتل بھی کر دیتا ہے اور زنا کی حالت میں تو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کی طرح پھینک دیتا ہے اور اپنے لئے ایک بے شرمی کی زندگی سے مرنا قبول کر لیتا ہے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ