مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 11
مجموعہ اشتہارات جلد دوم لوگوں کا وید یہ کیسی ہدایت لایا جو انسانی فطرت کی طبعی شرم اور حیا اور حمیت کے برخلاف ہے۔کیا کوئی شریف الفطرت اس بات پر راضی ہو سکتا ہے کہ اولاد کی خواہش سے یالڑکیوں کی کثرت کے بعد لڑکا پیدا ہونے کی تمنا سے ایک اجنبی کو اپنے گھر میں آپ بلا لا وے اور اپنی عورت کو اس سے ہم بستر کرا دے اور آپ الگ بیٹھا جوش شہوت کی حرکات دیکھتا رہے کیا اب بھی آپ لوگ اس تعلیم کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کہیں گے؟ اے میرے پیارے ہموطنو! اس خدا سے ڈرو جو ہرگز ناپاکی کی راہوں کو پسند نہیں کرتا وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کے بندوں میں زنا پھیلے اور حرامی اولاد پیدا ہو۔ایسی بیٹے کی خواہش پر بھی ہزار لعنت ہے جس کی والدہ اپنا عزیز خاوند چھوڑ کر دوسرے کے آگے پڑتی ہے اور تف اس اولاد پر جو حرام کاری کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔عزیز وذرا سوچو کہاں ہے تمہاری شرافت کہاں ہے تمہاری انسانی حمیت کہاں ہے تمہارا کانشنس۔غیر کا نطفہ تمہارا بیٹا ہر گز نہیں ہوگا۔اور ناحق بے حیائی سے اپنی عورتوں کی پاک دامنی کو گندگی میں ڈال دو گے۔دنیا میں کنجر سب سے زیادہ بے شرم اور فاسق قوم ہے مگر وہ بھی اپنی بہو سے حرام کاری نہیں کراتے مگر تم پر افسوس کہ جائز رکھتے ہو کہ تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کے سوا کسی اور کے پاس جاوے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زندگی سے مرنا بہتر ہے میں نے اسی تفتیش کے لئے قادیان میں ایک جلسہ قرار دیکر آریہ صاحبوں سے اس حقیقت کو دریافت کرنا چاہا چنانچہ ۳۰ جولائی ۱۸۹۵ء کو ایک مسجد میں یہ جلسہ منعقد ہوا اور چار آریہ صاحبان شامل جلسہ ہوئے اور جب ان سے دریافت کیا گیا تو بعض نے کہا کہ ہمیں خبر نہیں۔ہم نے ستیارتھ پرکاش کا یہ مقام نہیں پڑھا اور بعض نے بڑے استقلال سے بیان کیا کہ آریہ دھرم کا صرف یہ عقیدہ ہے کہ بیوہ نیوگ کے ذریعہ سے اولاد لے سکتی ہے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اصل واقعہ کو کیوں چھپایا۔میرے خیال میں انسانی شرم نے ان کو اجازت نہیں دی اور جب میرے بعض مخلصوں نے اُن کو وہ مقام پڑھ کر سنایا تو پھر دوسرا عذر یہ پیش ہوا کہ یہ طریق اس حالت میں ہے کہ جب خاوند ہرگز عورت کے پاس جانہ سکے۔پھر جب کھول کر بتلایا گیا کہ ستیارتھ پر کاش میں یہ صاف لکھا ہے کہ ایسا نا مرد ہو جو نا قابل اولا د ہو پس