مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 9

مجموعہ اشتہارات جلد دوم سمجھا دیں تو لکھنے سے دستکش رہوں کیونکہ میری نظر میں نیوگ کا عقیدہ ایک ایسا قابل شرم عقیدہ ہے کہ اس کے بیان میں گو کیسا ہی تہذیب سے کام لیا جائے پھر بھی بوجہ خبث نفس مضمون کے ناگفتنی باتیں لکھنی پڑتی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی صاحب پیچھے سے کوئی بات زبان پر لاویں بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ اگر کسی کا کچھ عذر ہو تو اب پیش کرلے میں بخوشی اس کے عذر کوسنوں گا اور اگر قبول کے قابل ہو تو قبول کرلوں گا کیونکہ اس جگہ نفسانیت منظور نہیں صرف اظہار حق منظور ہے اب ضروری استفسار ذیل میں لکھتا ہوں۔استفسار اے آریہ صاحبان آپ لوگ اس سے بے خبر نہیں کہ پنڈت دیانند صاحب نے وید کی شرتیوں کے حوالہ سے نیوگ لے کی تفصیل ذکر کرتے ہوئے ایک یہ بھی قسم لکھی ہے کہ اگر مرداس مردی کی قوت سے نا قابل ہو جس سے اولاد پیدا ہو سکے تو وہ اپنی بیوی کو اجازت دیوے تاکسی دوسرے سے اولاد حاصل کرے تب وہ شخص جس کو اجازت دی گئی ہے اس گھر میں جہاں اس عورت کا خاوند رہتا ہے اس کی بیوی سے ہم بستر ہوگا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ کئی سال تک اور جب تک کہ دس بچے پیدا ہو جائیں وہ اس سے ہم بستری کر سکتا ہے مگر ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ عورت اپنے خاوند کی خدمت اور سیوا میں بھی لگی رہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسی گھر میں اُس دیوث خاوند کا رہنا بھی ضروری ہے جس کی عورت سے دن رات ایک اجنبی اس کی آنکھوں کے سامنے بدکاری کر رہا ہے اور ایسے زانی کا نام جو پرائی عورت سے بدکاری کرے وید کی رو سے بیرج داتا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ بیرج دا تا اسی عورت سے اپنے لئے بھی اولا د لے سکتا ہے اور یہ بھی درج ہے کہ اگر کسی عورت کے لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو اس آریوں میں نیوگ نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔پنڈت دیانند ستیارتھ پرکاش میں لکھتے ہیں۔پاپ تو نیوگ کے روکنے میں ہے سو جس کا نہ کرنا پاپ ہے اس کا کرنا واجب ہے۔دیکھو ستیارتھ پر کاش صفحہ ۱۵ مطبوعہ اجمیر اور ہم مستقل رسالہ میں جو عنقریب چھپنے والا ہے اس کو مفصل بیان کر دیں گے۔ے آریہ دھرم میں حضرت مسیح موعود نے صفحہ 9 والے اس حاشیہ کو ختم کر کے اس کی جگہ صفحہ ۲ والا حاشیہ درج فرمایا ہے۔(ناشر)