مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 243

مجموعه اشتہارات ۲۴۳ جلد دوم بتاؤ کہ اس کی موت میں میری طرف سے کس کے ساتھ سازش ہوئی تھی؟ کیا تپ محرقہ کے ساتھ؟ دوم ۔ دوسری پیشگوئی شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کی مصیبت کے بارے میں تھی جو اس پر ناحق کے خون کا الزام لگایا گیا تھا ۔ شیخ مذکور ہوشیار پور میں زندہ موجود ہے ۔ اس کو پوچھو کہ کیا اس مقدمہ کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے میں نے اپنے خدا سے خبر پا کر کوئی اطلاع اس کو دی ہے یا نہیں۔ سوم ۔ تیسری پیشگوئی سردار محمد حیات خان حج کی نسبت اس وقت کی گئی تھی جبکہ سردار مذکور ایک ناحق کے الزام میں ماخوذ ہو گیا تھا۔ اب پوچھنا چاہیے کہ کیا در حقیقت کوئی ایسی پیشگوئی نامبردہ کی مخلصی کے بارے میں پیش از وقت کی گئی تھی یا اب بنائی گئی ہے۔ اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس پیشگوئی کا براہین میں بھی ذکر ہے۔ چہارم ۔ چوتھی پیشگوئی سید احمد خان کے سی۔ایس۔ آئی کی نسبت خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اشتہار یکم فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی کہ اُن کو کوئی سخت صدمہ پہنچے اب سید احمد خاں صاحب کو پوچھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی کے بعد آپ کو کوئی ایسا سخت صدمہ پہنچا ہے یا نہیں جو معمولی ہم وغم نہ ہو بلکہ وہ امر ہو جو جان کو زیروزبر کرنے والا ہو۔ ان وزیر وزبر کرنے وا بقیہ حاشیہ۔ الہامات میں جو پہلے سے شائع ہو چکے تھے۔ یہ شرط تھی کہ تو بہ اور خوف کے وقت موت میں تاخیر ڈال بلے چکےتھے۔ یہ و ہ اور خوف کے میں دی جائے گی۔ سو افسوس کہ احمد بیگ کو اس شرط سے فائدہ اُٹھانا نصیب نہ ہوا کیونکہ اس وقت اس کی بد قسمتی سے اس نے اور اس کے تمام عزیزوں نے پیش کے تمام عزیزوں نے پیشگوئی کو انسانی مکر اور کو انسانی مکر اور فریب پر حمل کیا اور ٹھٹھا اور ہنسی شروع کر دی اور وہ ہمیشہ ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے کہ پیشگوئی کے وقت نے اپنا منہ دکھلا دیا۔ اور احمد بیگ ایک محرقہ تپ کے ایک دو دن کے حملہ سے ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا ۔ تب تو اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور داماد کی بھی فکر پڑی اور خوف اور تو بہ اور نماز روزہ میں عورتیں لگ گئیں ۔ اور مارے ڈر کے اُن کے کلیجے کانپ اُٹھے۔ پس ضرور تھا کہ اس درجہ کے خوف کے وقت خدا اپنی شرط کے موافق عمل کرتا ۔ سو وہ لوگ سخت احمق اور کا ذب اور ظالم ہیں جو کہتے ہیں کہ داماد کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ وہ بدیہی طور پر حالت موجودہ کے موافق پوری ہوگئی اور دوسرے پہلو کی انتظار ہے۔ منہ