مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 235
مجموعہ اشتہارات ۲۳۵ جلد دوم نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لئے کوشش کرے اور کراوے۔پس افسوس کہ اخبار پنجاب سما چار مطبوعہ مارچ میں سازش کا الزام جو ہم پر لگایا ہے یہ کس قد رسچائی کا خون ہے۔میں صاحب اخبار سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اوتار گذرے ہیں جیسے راجہ رام چندر صاحب اور راجہ کرشن صاحب کیا آپ لوگ ان کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پیشگوئی کر کے پھر اپنی عزت رکھنے کے لئے ایسا حیلہ کیا ہو کہ کسی اپنے چیلہ کی منت خوشامد کی ہو کہ اس کو اپنی کوشش سے پوری کر کے میری عزت رکھ لے اور پھر ان کے چیلے ان کو اچھا آدمی سمجھتے ہوں۔ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک بدمعاش ڈاکو کے ساتھ اور چند بدمعاش جمع ہوں اور ایسے کام خفیہ طور پر کریں۔لیکن اس میرے مریدوں کے سلسلہ میں جس کے ساتھ مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا دعوی بھی بڑے زور سے ہے یہ حرام زدگی کے کام میلان نہیں کھا سکتے۔ہر یک مرید اس بلند دعوی کو دیکھ کر نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ پر ہیز گاری کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے۔پس کیونکر ممکن ہے کہ دعوئی تو یہ ہو کہ میں وقت کا عیسی ہوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کو اس طرح پر پورا کرنا چا ہے کہ مریدوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھ سے قصور ہو گیا میری پردہ پوشی کرو۔جاؤ آپ مرد اور کسی طرح میری پیشگوئی سچی کرو۔کیا ایسا مردار ایک پاک جماعت کا مالک ہوسکتا ہے؟ کہاں ہے تمہارا پاک کانشنس ، اے مہذب آریو!؟ اور کہاں ہے فطرتی زیر کی اے آریہ کے دانشمند و!؟ ہمار یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگی گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے نہیں ہے۔اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم سے نہیں ہے۔اسلام اس قوم کے بدمعاشوں کا ذمہ دار نہیں ہے۔بعض ایک ایک روپیہ کے لالچ میں بچوں کا خون کر دیتے ہیں۔ایسی واردا تیں اکثر نفسانی اغراض سے ہوا کرتی ہیں۔اور پھر بالخصوص ہماری جماعت جو نیکی اور پر ہیز گاری سیکھنے کے لئے میرے پاس جمع ہے۔وہ اس لئے میرے پاس نہیں آتے