مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 236
مجموعہ اشتہارات ۲۳۶ جلد دوم کہ ڈاکوؤں کا کام مجھ سے سیکھیں اور اپنے ایمان کو برباد کریں۔میں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی دشمنی نہیں۔ہاں جہاں تک ممکن ہے ان کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں۔اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہمارا شکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں۔اور با ایں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔ہم اس وقت کیونکر اور کن الفاظ سے آریہ صاحبوں کے دلوں کو تسلی دیں کہ بدمعاشی کی چالیس ہمارا طریق نہیں ہیں۔ایک انسان کی جان جانے سے تو ہم دردمند ہیں اور خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہونے سے ہم خوش بھی ہیں! کیوں خوش ہیں؟ صرف قوموں کی بھلائی کے لئے۔کاش وہ سوچیں سمجھیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لکھر ام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بدزبانیوں سے باز آجا تا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں۔اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی آٹھم کی پیشگوئی پر بھی اس نے دوبارہ روشنی ڈال دی۔کاش اب لوگ سوچیں اور سمجھیں اور قوموں کے درمیان سے بغض اور کینے دور ہو جائیں کیونکہ عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے یہ سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ مسیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہومگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بدعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہیے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا وے تو اس