مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 570 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 570

کرتی اور امن اور آرام کا موجب ہوتی ہے اور جو حق کے ظاہر کرنے کا انتہائی ذریعہ اور مجازی حکومتوں کے سلسلہ میں آسمانی عدالت کا رعب یاد دلاتی ہے اور جھوٹے کا منہ بند کرتی ہے وہ انجیلی تعلیم کے رو سے حرام ہے جس سے عیسائی عدالتوں کو پرہیز کرنا چاہیئے۔لیکن ہریک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل حضرت عیسیٰ پر بہتان ہے۔حضرت عیسیٰ نے کبھی گواہی اور گواہی کے لوازموں کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہا حضرت عیسیٰ خوب جانتے تھے ۱؎ کہ قسم کھانا شہادت کی روح ہے اور جو شہادت بغیر قسم ہے وہ مدعیا نہ بیان ہے نہ شہادت، پھر وہ ایسی ضروری قسموں کو جن پر نظام تحقیقات کا ایک بھارا مدار ہے کیونکر بند کر سکتے تھے۔الٰہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور انسانی کانشنس خود گواہی دے رہا ہے کہ خصومتوں کے قطع کے لئے انتہائی حد قسم ہی ہے اور ایک راستباز انسان جب کسی الزام اور شبہ کے نیچے آجاتا ہے اور کوئی انسانی گواہی قابل اطمینان پیش نہیں کرسکتا تو بالطبع وہ خدا تعالیٰ کی گواہی سے اپنی راستبازی کی بنیاد پر مدد لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی گواہی یہی ہے کہ وہ اس ذات عالم الغیب کی قسم کھا کر اپنی صفائی پیش کرے اور جھوٹا ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ کی لعنت اپنے پر وارد کرے یہی طریق آخری فیصلہ کا نبیوں کے نوشتوں سے ثابت ہوتا ہے مگر آتھم صاحب کہتے ہیں کہ قسم کھانا ممنوع اور ایمانداری کے برخلاف ہے۔اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ عذر ان کا بھی صحیح ہے یا نہیں کیونکہ اگر صحیح ہے تو پھر وہ فی الحقیقت قسم کھانے سے معذور ہیں لیکن اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ عیسائیوں کے ہریک مرتبہ کے آدمی کیا مذہبی اور کیا دنیوی جب کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو قسم کھاتے اور انجیل اٹھاتے ہیں اور ایک بڑے سے بڑا پادری جب کسی عدالت میں کسی شہادت کے ادا کرنے کے لئے بلایا جائے تو کبھی یہ عذر نہیں کرتا کہ انجیل کی رو سے قسم منع ہے بلکہ بطیبِ خاطر قسم کھاتا ہے بلکہ انگریزی سلطنت کے ُکل متعہد عہدہ دار اور پارلیمنٹ کے ممبر ۱؎ نوٹ۔کوئی سچی اور حقّانی تعلیم مجرموں کو پناہ نہیں دے سکتی پس جبکہ آتھم صاحب نے اس ڈر کا اقرار کر کے جس کو وہ کسی طرح سے چھپا نہیں سکتے یہ مجرمانہ عذر پیش کیا کہ یہ عاجز کئی دفعہ اقدام قتل کا مرتکب ہوا تھا اس لئے دل پر موت کا ڈر غالب ہوگیا تو کیا انجیل آتھم صاحب کو اس مطالبہ سے بچا لے گی کہ کیوں انہوں نے بے جا الزام لگایا۔پھر کیونکر انجیل ان کو اسی قسم سے روک سکتی ہے جس سے ان کی بریت ہو۔منہ