مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 570
مجموعه اشتہارات ۵۷۰ جلد اول کرتی اور امن اور آرام کا موجب ہوتی ہے اور جو حق کے ظاہر کرنے کا انتہائی ذریعہ اور مجازی حکومتوں کے سلسلہ میں آسمانی عدالت کا رعب یاد دلاتی ہے اور جھوٹے کا منہ بند کرتی ہے وہ انجیلی تعلیم کے رو سے حرام ہے جس سے عیسائی عدالتوں کو پر ہیز کرنا چاہیئے۔ لیکن ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ بالکل حضرت عیسی پر بہتان ہے۔ حضرت عیسی نے کبھی گواہی اور گواہی کے لوازموں کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہا حضرت عیسی خوب جانتے تھے لے کر قسم کھانا شہادت کی روح ہے اور جو شہادت بغیر قسم ہے وہ مدعیا نہ بیان ہے نہ شہادت، پھر وہ ایسی ضروری قسموں کو جن پر نظام تحقیقات کا ایک بھارا مدار ہے کیونکر بند کر سکتے تھے۔ الہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور انسانی کانشنس خود گواہی دے رہا ہے کہ خصومتوں کے قطع کے لئے انتہائی حد قسم ہی ہے اور ایک راستباز انسان جب کسی الزام اور شبہ کے نیچے آ جاتا ہے اور کوئی انسانی گواہی قابل اطمینان پیش نہیں کر سکتا تو بالطبع وہ خدا تعالیٰ کی گواہی سے اپنی راستبازی کی بنیاد پر مدد لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی گواہی یہی ہے کہ وہ اس ذات عالم الغیب کی قسم کھا کر اپنی صفائی پیش کرے اور جھوٹا ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ کی لعنت اپنے پر وارد کرے یہی طریق آخری فیصلہ کا نبیوں کے نوشتوں سے ثابت ہوتا ہے مگر آتھم صاحب کہتے ہیں کہ تم کہتے ہیں کہ قسم کھانا ممنوع اور ایمانداری کے برخلاف ہے۔ اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ عذران کا بھی صحیح ہے یا نہیں کیونکہ اگر صحیح ہے تو پھر وہ فی الحقیقت قسم کھانے سے معذور ہیں لیکن اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ عیسائیوں کے ہر یک مرتبہ کے آدمی کیا مذہبی اور کیا دنیوی جب کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو قسم کھاتے اور انجیل اٹھاتے ہیں اور ایک بڑے سے بڑا پادری جب کسی عدالت میں کسی شہادت کے ادا کرنے کے لئے بلایا جائے تو کبھی یہ عذر نہیں کرتا کہ انجیل کی رو سے قسم منع ہے بلکہ بطیب خاطر قسم کھاتا ہے بلکہ انگریزی سلطنت کے گل متعہد عہدہ دار اور پارلیمنٹ کے ممبر یہاں تک لے نوٹ ۔ کوئی سچی اور حقانی تعلیم مجرموں کو پناہ نہیں دے سکتی پس جبکہ آتھم صاحب نے اس ڈر کا اقرار کر کے جس کو وہ کسی طرح سے چھپا نہیں سکتے یہ مجرمانہ عذر پیش کیا کہ یہ عاجز کئی دفعہ اقدام قتل کا مرتکب ہوا تھا اس لئے دل پر موت کا ڈر غالب ہو گیا تو کیا انجیل آتھم صاحب کو اس مطالبہ سے بچالے گی کہ کیوں انہوں نے بے جا الزام لگایا۔ پھر کیونکر انجیل ان کو اسی قسم سے روک سکتی ہے جس سے ان کی بریت ہو۔ منہ