مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 569
پس جبکہ ایک طرف خوف اور ڈر کے یہ اسباب موجود ہوں اور دوسری طرف خود اقرار ہو کہ میں ایام پیشگوئی میں ضرور ڈرتا رہا۔پس کیا اب تک وہ اس مطالبہ کے نیچے نہیں آسکے کہ ہمیں وہ قسم کھا کر مطمئن کریں کہ اس قسم کا ڈر جس کے اسباب اور محرک اور نمونے ان کی نظر کے سامنے موجود تھے وہ ہرگز ان کے دل پر غالب نہیں ہوا بلکہ ان تلواروں اور برچھیوں نے ان کو ڈرایا جن کا خارج میں کچھ بھی وجود نہ تھا۔بہرحال اس دعویٰ کا بار ثبوت ان کی گردن پر ہے کہ یہ جان کا خوف جس کا وہ کئی دفعہ اقرار کر چکے اسلامی عظمت کے اثر اور پیشگوئی کے رعب سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے تھا لیکن افسوس کہ آتھم صاحب نے باوجود تین اشتہار جاری ہونے کے اب تک اس طرف توجہ نہیں کی اور اپنی بریت ظاہر کرنے کے لئے اس اطمینان بخش طریق کو اختیار نہیں کیا جس سے مجھ حق دار مطالبہ کی تسلی ہوسکتی کیا اس میں کچھ شک ہے کہ مجھے بیجا الزام لگانے کی وجہ سے قانوناً و انصافاًو عرفاًحق طلب ثبوت حاصل ہے اور کیا اس میں کچھ شبہ ہے کہ اس بات کا بار ثبوت اُن کے ذمہ ہے کہ وہ کیوں پندرہ مہینہ تک ڈرتے رہے اور میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ ڈرنے کی ثابت شدہ وجوہات میرے الہام کی صریح مؤید ہیں کیونکہ پیشگوئی کی شوکت اور قوت میرے پُر زور الفاظ سے ان کے دل میں جم چکی تھی اور پیشگوئی کی صداقت کا نمونہ مرزا احمد بیگ کی موت تھی جس کی سچائی ان پر بخوبی کھل چکی تھی لیکن تلواروں سے قتل کئے جانے کا کوئی نمونہ ان کی نظر کے سامنے نہ تھا سو آتھم صاحب پر واجب تھا کہ اس الزام کو قسم کھانے سے اپنے سر پر سے اٹھا لیتے لیکن عیسائیت کی قدیم بددیانتی نے ان کو اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ جھوٹا بہانہ پیش کردیا کہ قسم کھانا ہمارے مذہب میں منع ہے گویا ایسی تسلی بخش شہادت جو قسم کے ذریعہ سے حاصل ہوتی اور خصومت کو قطع کرتی اور الزام سے برَی نوٹ۔وہ فلاسفر جن کا قول ہے کہ خدا رحم ہے اور خدا محبت ہے وہ بھی اس مقام میں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک انسان اگر ایک وقت میں نہایت سرکشی اور ظلم اور بے ایمانی اور بے باکی کی حالت میں ہو اور دوسرے وقت میں وہی انسان نہایت خوف اور تضرع اور رجوع کی حالت میں ہو تو ان دونوں مختلف حالتوں کا ایک ہی نتیجہ ہرگز نہیں ہوسکتا پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ حکم سزا کی پیشگوئی جو سرکشی اور بے باکی کی حالت میں ہوئی تھی وہ اطاعت اور خوف کی حالت میں قائم رہے اور اطاعت اور خوف کی حالت کے موافق کوئی پُر رحم امر صادر نہ ہو۔منہ