مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 571
کہ گورنر جنرل سب حلف اٹھانے کے بعد اپنے عہدوں پر مامور ہوتے ہیں تو پھر کیا خیال کیا جائے کہ یہ تمام لوگ تعلیم انجیل پر ایمان رکھنے سے بے بہرہ ہیں اور صرف ایک آتھم صاحب مرد مسیحی دنیا میں موجود ہیں جو حضرت عیسیٰ کی تعلیم پر ایسا ہی کامل ایمان ان کو نصیب ہے جیسا کہ پطرس حواری اور پولس رسول کو نصیب تھا بلکہ اگر یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ قسم کھانا انجیل کے رو سے منع ہے تو پھر آتھم صاحب کا ایمان پطرس اور پولس رسول کے ایمان سے بھی کہیں آگے بڑھا ہوا ہے کیونکہ آتھم صاحب کے نزدیک قسم کھانا بے ایمانی ہے لیکن متی ۲۷ باب ۷۲ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پطرس حواری بہشتی کنجیاں والے نے بھی اس بے ایمانی سے خوف نہیں کیا اور بغیر اس کے کہ کوئی قسم کھانے پر اصرار کرے آپ ہی قسم کھالی لیکن اگر آتھم صاحب کہیں کہ پطرس راستباز آدمی نہیں تھا کیونکہ حضرت مسیح نے اس کو شیطان کا لقب بھی دیا ہے مگر میں راستباز ہوں اور پطرس سے بہتر اس لئے قسم کھانا بے ایمانی سمجھتا ہوں تو ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کے پولس رسول نے بھی جو بقول عیسائیاں حضرت موسیٰ ؑ سے بھی بڑھ کر ہے قسم کھائی ہے اگر اس کو بھی آپ ایمان سے جواب دیں تو خیر آپ کی مرضی اور اگر یہ سوال ہو کہ قسم کھانے کا ثبوت کیا ہے تو قرنتیان ۱۵ باب ۳۱ آیت دیکھ لیں جس میں پولس صاحب فرماتے ہیں مجھے تمہارے اس فخر کی جو ہمارے خداوند مسیح یسوع سے ہے قسم کہ میں ہر روز مرتا ہوں۔اس جگہ ناظرین خوب غور سے سوچیں کہ جس حالت میں پطرس اور پولس رسول قسم کھائیں اور آتھم صاحب قسم کھانا بے ایمانی قرار دیں یعنی شرعی ممنوعات کی مدمیں رکھیں جس کا ارتکاب بلاشبہ بے ایمانی ہے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حسب قول آتھم صاحب مسیح کے تمام حواری اور پولس رسول سب ممنوعات انجیل کے مرتکب اور ایمانی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے کیونکہ بعضوں نے ان میں سے قسمیں کھائیں اور بعض اس طرح پر بے ایمانی کے کاموں میں شریک ہوئے کہ قسم کھانے والوں سے جدا نہ ہوئے اور نہ امر معروف اور نہی منکر کیا لیکن آج تک بجز آتھم صاحب کے کسی عیسائی نے اس اعتقاد کو شائع نہیں کیا کہ حضرت مسیح کے تمام حواری یہاں تک کہ پولس رسول بھی ایمانی دولت سے تہی دست اور بے نصیب اور ممنوعات انجیل میں مبتلا تھے صرف اٹھارہ سو برس کے بعد آتھم صاحب کو یہ ایمان دیا گیا تعجب کہ اس قوم کے جھوٹ اور