مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 568
مجموعه اشتہارات ۵۶۸ جلد اول ادنی زد و کوب کا استغاثہ کبھی میرے پر دائر ہوا۔ پس جبکہ میرے سابقہ اعمال کسی شتر کا احتمال نہیں پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف پیشگوئی کے پورے ہونے کا احتمال آتھم صاحب کی نظر میں کئی وجوہ سے قوی تھا کیونکہ وہ احمد بیگ کی موت کی پیشگوئی کا پورا ہونا مجھ سے سن چکے تھے لے اور اس پیشگوئی کی کیفیت میرے اشتہارات اور پرچہ نورافشاں میں پڑھ چکے تھے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ان کی نسبت پیشگوئی جس قوت اور شوکت اور پر زور دعوٹی سے بیان کی گئی وہ بھی ان کو معلوم تھا تو اب ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں مل کر ایسا دل پر قومی اثر ڈالتی ہیں جو تازہ بتازہ نمونہ دیکھ چکا ہے ☆ لے حاشیہ۔ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد کی نسبت ایک ہی پیشگوئی تھی اور احمد بیگ کی نسبت جو ایک حصہ پیشگوئی کا تھا وہ نورافشاں میں بھی شائع ہو چکا تھا۔ غرض احمد بیگ میعاد کے اندرفوت ہو گیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کیلئے سخت ہم وغم کا موجب ہوا چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے تو بہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے جیسا کہ ہم نے اشتہار ۶ اکتوبر ۱۸۹۴ء میں جو غلطی سے ۶ رستمبر ۱۸۹۴ ء لکھا گیا ہے مفصل ذکر کر دیا ہے پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈالی گئی جیسا کہ ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ انذار اور تخویف کی پیشگویوں میں یہی سنت اللہ ہے کیونکہ خدا کریم ہے اور وعید کی تاریخ کو تو بہ اور رجوع کو دیکھ کر کسی دوسرے وقت پر ڈال دینا کرم ہے اور چونکہ اس از لی وعدہ کی رو سے یہ تاخیر خدائے کریم کی ایک سنت ٹھہر گئی ہے جو اس کی تمام پاک کتابوں میں موجود ہے اس لئے اس کا نام تخلف وعدہ نہیں بلکہ ایفاء وعدہ ہے کیونکہ سنت اللہ کا وعدہ اس سے پورا ہوتا ہے۔ بلکہ تخلف وعدہ اس صورت میں ہوتا کہ جب سنت اللہ کا عظیم الشان وعدہ ٹال دیا جاتا مگر ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے ۔ منہ نوٹ۔ احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پروانہ کی خط پر خط بھیجے گئے ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے سو یہی قصور تھا کہ پیشگوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے اور شیخ بٹالوی کا یہ کہنا کہ نکاح کے بعد طلاق کیلئے ان کو فہمائیش کی گئی تھی۔ یہ سراسر افترا ہے بلکہ ابھی تو ان کا ناطہ بھی نہیں ہو چکا تھا جبکہ ان کو حقیقت سے اطلاع دی گئی تھی اور اشتہار تو کئی برس پہلے شائع ہو چکے تھے ۔ منہ