مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 567
آئی اس لئے وہ اس مطالبہ کے نیچے آگئے کہ کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ پیشگوئی کے رعب ناک اثر نے ان کا یہ حال بنا دیا تھا اور ضرور انہوں نے اسلامی عظمت کا خوف اپنے دل پر ڈال لیا تھا پس اسی وجہ سے انصاف اور قانون دونوں ان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ہمارے منشاء کے موافق قسم کھا کر اپنی بریت ظاہر کریں مگر وہ ایک جھوٹا عذر پیش کر رہے ہیں کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے پس ان کی یہی مثال ہے کہ جیسے ایک چور بیجا مداخلت کے وقت میں پکڑا جائے اور اس سے صفائی کے گواہ مانگے جائیں تو چور حاکم کو یہ کہے کہ میرے مذہب کی رو سے یہ منع ہے کہ میں صفائی کے گواہ پیش کروں یا اپنی بریت کے لئے قسم کھائوں اس لئے میں آپ کی منت کرتا ہوں کہ مجھے یوں ہی چھوڑ دو۔پس جیسا وہ احمق چور قانون عدالت کے برخلاف باتیں کر کے یہ طمع خام دل میں لاتا ہے کہ میں بغیر اپنی بریت ظاہر کرنے کے یوں ہی چھوٹ جائوں گا اسی طرح آتھم صاحب اپنی سادہ لوحی سے بار بار انجیل پیش کرتے ہیں اور اس الزام سے بری ہونے کا ان کو ذرہ فکر نہیں جو خود ان کے اقرار اور کردار سے ان پر ثابت ہوچکا ہے انہیں اس پیشگوئی سے پہلے جو ان کی نسبت کی گئی خوب معلوم تھا کہ احمد بیگ کی نسبت جو موت کی پیشگوئی کی گئی تھی جس کو ایڈیٹر نور افشاں نے چھاپ بھی دیا تھا اور جس کے بہت سے اشتہار بھی شائع ہو چکے تھے وہ کیسی صفائی سے پوری ہوئی ان کو خوب یاد ہوگا کہ انہیں ایام انعقاد مباحثہ میں اس پیشگوئی کا پورا ہونا بذریعہ ایک خط کے ان پر ظاہر کر دیا گیا تھا پس اسی سبب سے اس پیشگوئی کا غم ان کے دل پر بہت ہی غالب ہوا کیونکہ وہ نمونہ کے طور پر ایک پیشگوئی کا پورا ہونا ملاحظہ کر چکے تھے مگر میری قاتلانہ سیرت کی نسبت تو ان کے پاس کوئی نمونہ اور کوئی ثبوت نہ تھا کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تھا کہ میں جس کی نسبت موت کی پیشگوئی کرتا ہوں اس کو خود قتل کر دیتا ہوں۔پھر کیا کسی عقلمند کا قیاس اس بات کو باور رکھ سکتا ہے کہ جس بات کا ان کے پاس کھلا کھلا نمونہ تھا بلکہ عیسائی پرچہ بھی اس کا گواہ تھا اس تجربہ کردہ اور آزمودہ بات کا تو کچھ بھی خوف ان کے دل پر طاری نہ ہوا مگر قتل کرنے کا خوف دل پر طاری ہوگیا جس کی تصدیق کے لئے کوئی نمونہ ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ شبہ کرنے کی کوئی وجہ تھی۔کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ کبھی میں نے کوئی ظالمانہ حرکت کی یا