مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 543

اور را ستبازوں کا بہشت ہے نہ کہ عذاب ؎ ہر دم براہ جانان سوزیست عاشقان را زِ جہان چہ دید آن کس کہ ندید این جہان را۱؎ (۱۰) دسواں اعتراض یہ کہ پادری عماد الدین تو ایک جاہل آدمی ہے اور عربی سے بے بہرہ وہ بے چارہ عربی کتابوں کا جواب کیونکر لکھتا۔الجواب۔ایسا جاہل ایک مدت دراز سے مولوی کہلاتا تھا اور ہزاروں نادان اس کو مولوی سمجھتے تھے تو کیا اس کی ان تالیفات سے ذلت نہیں ہوئی اور کیا وہ بباعث عاجز رہ جانے کے اس ہزار لعنت کا مستحق نہ ہوا جو نور الحق کے چار صفحہ میں لکھی گئی ماسوا اس کے اے حضرت اس سے تو ان تمام پادریوں کی ناک کٹ گئی جو مولوی کہلاتے تھے اور مولویت کے دھوکہ سے جاہلوں پر بداثر ڈالتے تھے۔نہ صرف عمادالدین کا ناک۔کیا ایسی ثابت شدہ ذلت اور لعنت کی نظیر ہماری جماعت کو بھی پیش آئی آپ عیسائیوں کے حامی تو بنے اب حلفاًپورا پورا جواب دیں۔(۱۱) گیارھواں اعتراض یہ ہے کہ ایک ہندو زادہ سعد اللہ نام لدھیانہ سے اپنے اشتہار ۱۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء میں لکھتا ہے کہ صرف دل میں حق کی عظمت کو ماننا اور اپنے عقائد باطلہ کو غلط سمجھنا کسی طرح عمل خیر نہیں بن سکتا یہ دجاّل قادیانی کا ہی کام ہے کہ اس کا نام رجوع بحق رکھے۔الجواب۔اے احمق دل کے اندھے دجاّل تو توُ ہی ہے جو قرآن کریم کے برخلاف بیان کرتا ہے اور نیز اپنی قدیم بے ایمانی سے ہمارے بیان کو محرف کر کے لکھتا ہے ہم نے کب اور کس وقت کہا جو ایسا رجوع جو خوف کے وقت میں ہو اور پھر انسان اس سے پھر جائے نجات اخروی کے لئے مفید ہے بلکہ ہم تو بار بار کہتے ہیں کہ ایسارجوع نجات اخروی کے لئے ہرگز مفید نہیں اور ہم نے کب آتھم نجاست خوارشرک کو بہشتی قرار دیا ہے یہ تو سراسر تیرا ہی افترا اور بے ایمانی ہے ہم نے تو قرآن کریم کی تعلیم کے موافق صرف یہ بیان کیا تھا کہ کوئی کافر اور فاسق جب عذاب کے اندیشہ سے عظمت اور صداقت اسلام کا خوف اپنے دل میں ڈال لے اور اپنی ۱؎ ترجمہ۔عاشق ہر وقت اپنے محبوب کے لئے تڑپتے رہتے ہیں، جسے یہ کیفیت حاصل نہ ہوئی اس نے اس دنیا سے کیا دیکھا۔