مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 542 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 542

پھر دوسری ذلّت دیکھو کہ پچاس برس کی مولویت کا دعویٰ جس کی بناء پر عماد الدین وغیرہ کا اسلامی تعلیم میں دخل دینا جاہلوں کی نظر میں معتبر سمجھا جاتا تھا نجاست کی طرح جھوٹ کی بدبو سے بھرا ہوا نکلا اور یکدفعہ بوسیدہ بنیاد کی طرح گر گیا اور ہزار لعنت کا رسہ ہمیشہ کے لئے تمام ان پادریوں کے گلے میں پڑ گیا جو علم عربی میں دخل رکھنے کا دم مارتے تھے کیا یہ ایسی ذلت اور رسوائی ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ سکے اور کیا یہ وہ پہلی ذلت نہیں ہے جو پادریوں کو ہندوستان میں اور پنجاب میں نصیب ہوئی جس کے اشتہارات یورپ اور امریکہ اور تمام بلاد میں پھیل کر عام طور پر جہالت اور دروغگوئی ان پادریوں کی جو مولوی کہلاتے تھے ثابت ہوئی اور ہمیشہ کیلئے یہ داغ ان کی پیشانی پر لگ گیا جواب ابد الدہر تک دور نہیں ہوسکتا۔کیا ایسی ذلت کی کوئی نظیر ہمارے فریق میں پیشگوئی کے بعد آپ نے دیکھی۔بھلا ذرا کلمہ طیبہ پڑھ کر بیان تو کرو تاہم بھی سنیں اور پھر یہ ذلتیں اور رسوائیاں ابھی ختم کہاں ہوئیں ہمارا اشتہارپر اشتہار نکالنا یہاں تک کہ تین ہزار تک انعام دینا اور آتھم صاحب کی قسم کھانے سے جان نکلنا کیا اس سے اسلام کی ہیبت اور صداقت بدیہی طور پر ثابت نہیں کیا اب بھی عیسائیوں کے ذلیل اور جھوٹے ہونے میں کچھ کسر باقی رہ گئی ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ رات کو آتھم کی موت کے لئے دعائیں مانگنا یہ بھی ایک عذاب تھا۔سبحان اللہ کس قدر مسلمان کہلا کر بے ہودہ باتیں آپ کے منہ سے نکل رہی ہیں۔سچے مسلمان ہمیشہ غلبہئِ اسلام کے لئے دعائیں مانگتے ہیں اور تہجد بھی پڑھتے ہیں اور نماز میں بھی ان کو رقت طاری ہوتی ہے اور آیت ۔۱؎ کا مصداق ہوتے ہیں اگر یہی عذاب ہے تو ہماری دعا ہے کہ قیامت میں بھی یہ عذاب ہم سے الگ نہ ہو دعاکرنا ہمیشہ نبیوں کا طریق اور صلحاء کی سنت ہے اور عین عبادت ہے اس کا نام عذاب رکھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو دنیا کے کیڑے ہیں اور روحانی جہان سے بے خبر ہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مومن صادق پر اس وقت دکھ اور عذاب کی حالت وارد ہوتی ہے کہ جب نماز کی رقت اور پُر رقت دعا اس سے فوت ہو جاتی ہے۔اے غافلو یہ تو دین داروں ۱؎ الفرقان:۶۵