مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 544
شوخیوں اور بے باکیوں کی کسی قدر رجوع کے ساتھ اصلاح کر لے تو خدا تعالیٰ وعدہ عذاب دنیوی میں تاخیر ڈال دیتا ہے یہی تعلیم سارے قرآن میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہ کفار کا قول ذکر کر کے فرماتا ہے۔ ۔۱؎ … اور پھر جواب میں فرماتا ہے ۔۲؎ یعنی کافر عذاب کے وقت کہیں گے کہ اے خدا ہم سے عذاب دفع کر کہ ہم ایمان لائے اور ہم تھوڑا سا یا تھوڑی مدت تک عذاب دور کر دیں گے مگر تم اے کافرو پھر کفر کی طرف عود کرو گے۔پس ان آیات سے اور ایسا ہی ان آیتوں سے جن میں قریب الغرق کشتیوں کا ذکر ہے صریح منطوق قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب دنیوی ایسے کافروں کے سر پر سے ٹل جاتا ہے جو خوف کے دنوں اور وقتوں میں حق اور توحید کی طرف رجوع کریں گو امن پاکر پھر بے ایمان ہو جائیں۔بھلا اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو اپنے معلّم شیخ بٹالوی کو کہو کہ قسم کھا کر بذریعہ تحریر یہ ظاہر کرے کہ ہمارا یہ بیان غلط ہے کیونکہ تم تو جاہل ہو تم ہرگز نہیں سمجھو گے اور وہ سمجھ لے گا اور یاد رکھو کہ وہ ہرگز قسم نہیں کھائے گا کیونکہ ہمارے بیان میں سچائی کا نور دیکھے گا اور قرآن کے مطابق پائے گا پس اب بتلا کہ کیا دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا یا کسی اور کا۔حق سے لڑتا رہ آخر اے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے بخدا مجھے اسی وقت ۲۹؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو تیری نسبت الہام ہوا ہے اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرْ اور ہم نے اس طرح پر آتھم کا رجوع بحق ہونا بے ثبوت نہیں کہا۔کیا تو سوچتا نہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو کیوں قسم نہیں کھاتا۔اگر یہی سچ ہے تو وہ سچی قسم کھانے سے کس پہاڑ کے نیچے آکر دب جائے گا اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آتھم صاحب کا صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کرتے رہنا کچھ بھی چیز نہیں جھوٹ بولنا نصاریٰ کی سرشت میں داخل ہے اگر بندہ پرست لوگ جھوٹ نہ بولیں تو اور کون بولے مگر ہمارا تو یہ مطلب اور مدعا ہے کہ بحیثیت ایک گواہ کے کھڑا ہوکر مجمع عام میں اس مضمون کی قسم کھا جائیں جس کی ہم بار بار تعلیم کرتے ہیں مگر کیا اس نے ۱؎ الدخان: ۱۳ ۲؎ الدخان: ۱۶