مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 449

گیارویں۱۱ ذیقعدہ۱۳۱۰ھ قرار پائی ہے۔جس سے کسی صورت میں تخلّف لازم نہیں ہو گا۔اور مقام مباہلہ عیدگاہ جو قریب مسجد خاں بہادر محمد شاہ مرحوم ہے قرار پایا ہے۔اور چونکہ دن کے پہلے حصّہ میں قریباً بارہ ۱۲ بجے تک عیسائیوں سے دربارہ حقیّتِ اسلام اس عاجز کا مباحثہ ہو گا۔اور یہ مباحثہ برابر ۱۲ دن تک ہوتا رہے گا۔اس لئے مکفّرین جو مجھ کو کافر ٹھہر اکر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں دو بجے سے شام تک بقیہ حاشیہ۔کتاب میں نہ پائے جائیں۔ارے مخبوط الحواس ہم تو اسی سبب سے تجھے ملحد اور ضال اور مضل اور زندیق کہتے ہیں کہ تم وہ معانی قرآن اور حدیث کے کرتے ہو جو آج تک کسی مفسّر و محدّث متبع سُنّت نے نہیں کئے۔پھر اور جو کوئی مسلمان ایسے معانی کرے گا تو وہ بھی آپ کا ہی بھائی ہو گا۔نیز اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ آخر میں ۱۰۰ شعر لطیف بلیغ و فصیح عربی میں بطور قصیدہ فریقین بناویں۔پھر دیکھیں کہ کس کا قصیدہ عمدہ و پسندیدہ ہے۔قصیدہ و شعر گوئی تو کوئی فضیلت اور بزرگی اور حقانیّت و علمیّت کا معیار و مدار نہیں۔تک بندی اور قافیہ سازی ایک ملکہ ہے جو فسّاق اور فجّار اور بے دینوں کو بھی دیا جاتا ہے۔بلکہ ایک طرح کا نقص ہے۔اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچایا۔۔۱؎ اگر کچھ فضیلت اور حقیّت کی بات ہوتی تو اوّل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی کچھ مردانگی بھی چاہیے۔خنثوں کی طرح بیہودہ سمع خراشی اور بکواس کیوں کرتے ہو۔؎ اِنْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ فَحُوْلًا فَابْرِزُوْا وَ دَعُوْ الشَّکَاوٰی حِیْلَۃَ النِّسْوَانِ شاید اب یہ حیلہ کرو کہ تم سے مباہلہ کا کیا فائدہ کیونکہ تم حافظ محمد یوسف کو کہہ چکے کہ اگر مجھ پر لعنت کا اثر بھی ظاہر ہوا تو بھی میںکافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ مَیں تو مسیح قادیانی کی طرح معصومیت کا دعویٰ نہیں رکھتا ہوں۔اگر مجھ سے غَضْبًا لِلّٰہِ وَ غَیْرَۃً لِدِیْنِ اللّٰہِ کوئی کلمہ زیادتی یا خلاف ادب نکلا بھی ہو تو میں اس سے بہزار زبان تائب ہوں۔؎ گفتگوئے عاشقاں دَربابِ ربجوششِ عشق است نَے ترکِ ادب ہر کہ کرد از جامِ حق یک جرعہ نوشنے ادب ماند درونے عقل و ہوشحافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اوّل درجہ کا ناصر و مؤید و مددگار ہے۔اس نے ۲؍ شوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی۔آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نور الدین و محمداحسن امروہی یہ تینوں مُرتد اور دجّال اور کذّاب ہیں۔چونکہ تا ہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمُودار نہیں ہوا۔لہٰذا پیرجی کو بھی گرمی آ گئی اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دے دیا۔ذرا صبر تو کرو۔دیکھو۔اللہ کیا کرتا ہے۔وَ کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ ۱؎ یٰسٓ: ۷۰