مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 449
مجموعه اشتہارات ۴۴۹ جلد اول گیارویں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ قرار پائی ہے۔ جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا۔ اور مقام مباہلہ عید گاہ جو قریب مسجد خاں بہادر محمد شاہ مرحوم ہے قرار پایا ہے۔ اور چونکہ دن کے پہلے حصہ میں قریباً بارہ بجے تک عیسائیوں سے دربارہ حقیت اسلام اس عاجز کا مباحثہ ہوگا۔ اور یہ مباحثہ برابر۱۲ دن تک ہوتا رہے گا۔ اس لئے مکفرین جو مجھ کو کافر ٹھہرا کر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں دو بجے سے شام تک بقیہ حاشیہ۔ کتاب میں نہ پائے جائیں ۔ ارے مخبوط الحواس ہم تو اسی سبب سے تجھے ملحد اور ضال اور مضل اور زندیق کہتے ہیں کہ تم وہ معانی قرآن اور حدیث کے کرتے ہو جو آج تک کسی مفتر و محدث متبع سنت نے نہیں کئے ۔ پھر اور جو کوئی مسلمان ایسے معانی کرے گا تو وہ بھی آپ کا ہی بھائی ہوگا۔ نیز اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ آخر میں ۱۰۰ شعر لطیف بلیغ و فصیح عربی میں بطور قصیدہ فریقین بناویں۔ پھر دیکھیں کہ کس کا قصیدہ عمدہ و پسندیدہ ہے۔ قصیدہ و شعر گوئی تو کوئی فضیلت اور بزرگی اور حقانیت و علمیت کا معیار و مدار نہیں۔ تک بندی اور قافیہ سازی ایک ملکہ ہے جو فساق اور فجار اور بے دینوں کو بھی دیا جاتا ہے۔ بلکہ ایک طرح کا نقص ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچایا۔ وَ مَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِى لَهُ اگر کچھ فضیلت اور حقیت کی بات ہوتی تو اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جاتی کچھ مردانگی بھی چاہیے۔ خشوں کی طرح بیہودہ سمع خراشی اور بکواس کیوں کرتے ہو۔ ے إِنْ كُنتُمْ أَنْتُمْ فَحُولًا فَابْرِزُوا وَ دَعُو الشَّكَاوَى حِيْلَةَ النِّسْوَانِ شاید اب یہ حیلہ کرو کہ تم سے مباہلہ کا کیا فائدہ کیونکہ تم حافظ محمد یوسف کو کہہ چکے کہ اگر مجھ پر لعنت کا اثر بھی ظاہر ہوا تو بھی میں کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا ۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں تو مسیح قادیانی کی طرح معصومیت کا دعوی نہیں رکھتا ہوں۔ اگر مجھ سے غَضَبًا لِلَّهِ وَ غَيْرَةً لِدِينِ اللهِ کوئی کلمہ زیادتی یا خلاف ادب نکلا بھی ہو تو میں اس سے بہزار زبان تائب ہوں ۔ ه گفتگوئے عاشقاں در باب رب هر که کرد از جام حق یک جرعه نوش جوشش عشق است نے ترک ادب نے ادب ماند درونی عقل و ہوش حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اول درجہ کا ناصر و موید و مددگار ہے۔ اس نے ۲ رشوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی۔ آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نور الدین و محمد احسن امروہی یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذاب ہیں ۔ چونکہ تا ہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمودار نہیں ہوا۔ لہٰذا پیر جی کو بھی گرمی آگئی اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دے دیا۔ ذرا صبر تو کرو۔ دیکھو۔ اللہ کیا کرتا ہے۔ وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ ا يس: ۷۰