مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 448

لیے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو اس شخص اور ایسا ہی ہر ایک مکفّر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے، مباہلہ منظور ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ القدیر میں تیسری یا چوتھی ذیقعد۱۳۱۰ھ تک امرتسر میں پہنچ جائوں گا اور تاریخ مباہلہ دہم۱۰ ذی قعد اور یابصورت بارش وغیرہ کسی ضرروری وجہ سے بقیہ حاشیہ۔مباہلے اور مباحثے کے اشتہار چھپو اکر اور رجسٹری شدہ خطوط اور دستی خطوط معتبر اشخاص کی وساطت سے پہنچا کر دل و جان سے تیرے لقا کے میدان مباحثہ و مباہلہ میں شایق و مشتاق ہیں۔ان سے کیوں گریز اور روپوشی کرتے ہو۔اور مصداق ۔۔۱؎ بنتے ہو۔؎ اے دل عشّاق بہ دامِ تو صید مابہ تو مشغول تو باعمر و زید اور اگر ان اشتہاروں سے آنکھوں پر پردہ اور گوش باطل نیوش بَہرے ہو گئے ہوں تو ناظرین کے ملاحظے اور اتمامِ حجت کے لیے پھر ان کا ذکر کردیتے ہیں۔ا وّل تین خط مفتی مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی متضمن استدعائے مباحثہ خط اوّل مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ جعفری پریس لاہور۔خط دوم ۱۴؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ لاہور۔خط سوم مورخہ ۲۴؍جنوری۱۸۹۲ء مطبوعہ لاہور۔دوئم اشتہار ضروری مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مورخہ ۲۶؍ مارچ ۱۸۹۱ء مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور۔سوئم اعلان عام از طرف انجمن اسلامیہ لدھیانہ مورخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ انصاری دہلی۔چہارم نوٹس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مورخہ ۱۵؍ فروری ۱۸۹۱ء مطبوعہ لاہور۔پنجم نوٹس اتمام حجت مولوی عبد المجید مالک مطبع انصاری مورخہ ۱۳؍ ربیع الاوّل ۱۳۰۹ھ۔ششم اشتہار مولوی صاحب عبد الحق دہلوی مصنّف تفسیر حقانی مورخہ یکم اکتوبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ انصاری۔ہفتم اشتہار محمد عبد الحمید مورخہ ۷؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ دہلی۔ہشتم اشتہار مولوی محمد صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب اور مولوی عبد اللہ صاحب مفتیان شہر لدھیانہ مورخہ ۲۹؍ رمضان المبارک مطبوعہ لدھیانہ۔نہم اشتہار مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس مورخہ ۲۴؍ رمضان شریف مطبوعہ لدھیانہ وغیرہ۔مَا لَا یُحْصِیْھَا اِلَّا اللّٰہُ۔اب اتنے اشتہارات متفرق علماؤں نے متفرق شہروں میں دیئے۔تم نے کس سے بحث کی اور کس جگہ میدان میں حاضر ہوئے۔پس جب تمہاری مکّاری اور دھوکہ دہی عام پر کُھل گئی تو پھر تمہارے دام میں وہی شخص آوے گا جو شقی سرمدی ہو۔   ۔   ۔۲؎ ایک اور ابلہ فریبی و شعبدہ بازی کاریگر کی سنیے۔ایک اشتہار مورخہ ۳۰؍ مارچ ۱۸۹۳ء میں خامہ فرسائی کی ہے کہ ایک سورۃ کی تفسیر عربی میںلکھتا ہوں اور ایک جانب مخالف لکھے اور اس میں ایسے معارف جدیدہ و لطائف غریبہ لکھے جائیں جو کسی دوسری ۱؎ المدثر: ۵۱، ۵۲ ۲؎ النحل: ۱۰۰، ۱۰۱