مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 450
مجھ کو فرصت ہو گی۔اس وقت میں بتاریخ دہم۱۰ ذیقعد یا بصورت کسی عذر کے گیاراں ذیقعد ۱۳۱۰ھ کو مجھ سے مباہلہ کر لیں اور دہم ذیقعد اس مصلحت سے تاریخ قرار پائی ہے کہ تا دوسرے علماء بھی جو اس عاجز کلمہ گو اہل قبلہ کو کافر ٹھہراتے ہیں۔شریک مباہلہ ہو سکیں۔جیسے محی الدین لکھوکے والے اور مولوی عبدالجبار صاحب اور شیخ محمد حسین بٹالوی اور منشی سعد اللہ مدرس ہائی سکول لدہانہ اور عبد العزیز واعظ لدہانہ اور منشی محمدعمر سابق ملازم ساکن لدہانہ اور مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدہانہ اور میاں بقیہ حاشیہ۔بِاَجَلٍ مُّسَمّٰی اِنَّہٗ حَکِیْمٌ حَمِیْدٌ۔مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے دکھایا گیا کہ مَیں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سُنایا۔؎ بہ صوت بُلبل و قمری اگر نگیری پند علاج کے کنمت آخر الدواء الکیُّ اوربھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش ہوا۔اب بذریعہ اشتہار ہذا بدستخط خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہان کو گواہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر کچھ لعنت کا اثر صریح طور پر جو عموماً سمجھا جاوے کہ بیشک یہ مباہلہ کا اثر ہوا ہے۔تو میں فوراً تمہارے کافر کہنے سے تائب ہو جاؤںگا۔اب حسبِ اشتہار خود مباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر آؤ۔مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمہارے سب اتباع دجّالین کذّابین ملاحدہ اور زنادقہ باطنیہ ہیں۔اور میدان مباہلہ عیدگاہ ہو گا۔تاریخ جو تم مقرر کرو۔اب بھی تم بموجب اشتہار خود میرے ساتھ مباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواست مباہلہ اوّل درجہ کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے۔اور اَ لَا لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ کا مصداق بننا ہے۔اب ضروری دلیری و توکّل کر کے ہزیمت نہ کرو۔بُلُوْغُ الْاَ مَالِ فِیْ رُکُوْبِ الْاَھْوَالِ۔اور اگر ایسے ہی کاغذوں کی گڈیاں اُڑانا ہے اور حقیقت اور نتیجہ کچھ نہیں۔پھر تم پر یہ مسیحیت مبارک ہو۔اللہ نے تمہاری عمر کو ضائع کیا اور مسلمانوں کی عمر عزیز کا ناحق خون کیوں کرتے ہو۔؎ گر ازیں بار باز ہم پیچی سرے بر تو شد نفرین ربّ اکبرے المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر عبد الحق غزنوی۔از امرت سر (پنجاب) ۲۶؍ شوال ۱۳۱۰ھ (نیشنل پریس امرتسر) بار سوم ۳ (یہ اشتہار کے دو صفحوں پر ہے) (تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحہ ۴۸ تا ۵۲ حاشیہ)