مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 419

س سے مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔تب عبد الحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا۔حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طَوْعًا وَ کَرْہًا مستعد مباہلہ ہو گیا اور حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑ لیا کہ مَیں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں۔مگر مباہلہ فقط اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا۱ غلام احمد ومولوی حکیم۲ نور الدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذّابین اور دجّالین ہیں۔حافظ صاحب نے فی الفور بلاتامل منظور کیا کہ مَیں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبد الحق سے مباہلہ کیا اور گواہانِ مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبد الہادی صاحب اور میاں عبد الرحمن صاحب عمر پوری قرار پائے اور جب حسبِ دستورِ مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے مُنہ سے کہہ چکے کہ یاالٰہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پرتیری لعنت نازل ہو۔یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو۔تب حافظ صاحب نے عبد الحق سے دریافت کیا کہ اس وقت مَیں بھی اپنے آپ پر بحالت کاذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی مُنہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کاذب ہونے کے عذاب الٰہی کی اپنے لیے درخواست کر چکے۔لہٰذا اب مَیں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا اور کوئی ذلّت اور رسوائی مجھ کو پیش آ گئی تو مَیں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کر لوں گا۔سو اب تم بھی اس وقت اپنا ارادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کاذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارد ہو گیا تو تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدہ سے رُجوع کرو گے یا نہیں۔فی الفور عبدالحق نے صاف جواب دیا کہ اگر مَیں اپنی اس بد دعا سے سؤر ؔاور بندرؔ اور ریچھؔ بھی ہو جائوں۔تب بھی اپنا یہ عقیدہ تکفیر ہرگز نہ چھوڑوں گا اور کافر کافر کہنے سے باز نہیں آئوں گا۔تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لئے اس نے معیار ٹھہرایا تھا اور جو قرآن کریم کی رُو سے بھی حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے ایک معیار ہے کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھر گیا؟ اور زیادہ تر ظلم اور تعصّب اس کا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لیے تو تیار ہے کہ فریق مخالف پر