مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 420
مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لیے بطور دلیل اور حجت کے پیش کرے۔لیکن وہ اگر آپ ہی مَوردِ عذاب ہو جائیں تو پھر مخالف کے لیے اس کے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حجت نہ ہو۔اب خیال کرنا چاہیے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر امانت اور دیانت اور ایمانداری سے دور ہے۔گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔یہودی لوگ جو موردِ لعنت ہو کر بندرؔ اور سؤرؔ ہو گئے تھے۔ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سؤروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلّی اُن سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔جیسا کہ قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے ۔۱؎ ۔۲؎ یعنی کافر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ایسے رقیق اور پتلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔اللہ جَلَّ شَانُـہٗ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت کا اثر ہے جو دلوں پر ہے۔یعنی لعنت جب کسی پر نازل ہوتی ہے اس کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ دل سخت ہو جاتا ہے۔اور گو کیسا ہی حق کھل جائے، پھر انسان اس حق کو قبول نہیں کرتا۔سو یہ حافظ صاحب کی اسی وقت ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ دشمن نے مسخ شدہ فرعون کی طرح اسی وقت مباہلہ کے بعد ہی ایسی باتیں شروع کر دیں۔گویا اسی وقت لعنت نازل ہو چکی تھی۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ یہ وہی عبد الحق ہے کہ جس نے الہام کا بھی دعویٰ کیا تھا۔اب ناظرین ذرا ایک انصاف کی نظر اس کے حال پر ڈالیں کہ یہ شخص سچائی سے دوستی رکھتا ہے یا دشمنی ظاہر ہے کہ ملہم وہ شخص ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ سچائی کے پیاسے اور بھُوکے ہوتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ سچائی ہمارے ساتھ نہیں بلکہ فریق مخالف کے ساتھ ہے اُسی وقت اپنی ضِد کو چھوڑ دیتے ہیں اور حق کے ۱؎ البقرۃ: ۸۹ ۲؎ النساء: ۱۵۶