مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 379

مخالفوں کے حملے ہوتے ہیں ویسی ہی ہمیں نئی تدبیریں کرنی پڑتی ہیں پس اگرحالت موجودہ کے موافق ان حملوں کے روکنے کی کوئی تدبیر اور تدارک سوچیں تو وہ ایک تدبیر ہے بدعات سے اُس کو کچھ تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ بباعث انقلاب زمانہ کے ہمیں بعض ایسی نئی مشکلات پیش آجائیں جو ہمارے سید و مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس رنگ اور طرز کی مشکلات پیش نہ آئی ہوں مثلاً ہم اس وقت کی لڑائیوں میں پہلی طرز کو جو مسنون ہے اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانہ میں طریق جنگ و جدل بالکل بدل گیا ہے اور پہلے ہتھیار بیکار ہوگئے اور نئے نئے ہتھیار لڑائیوں کے پیدا ہوئے اب اگر ان ہتھیاروں کو پکڑنا اور اٹھانا اور ان سے کام لینا ملوک اسلام بدعت سمجھیں اور میاں رحیم بخش جیسے مولوی کی بات پر کان دھر کے اِن اسلحہ جدیدہ کا استعمال کرنا ضلالت اور معصیت خیال کریں اور یہ کہیں کہ یہ وہ طریق جنگ ہے کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور نہ صحابہ اور تابعین نے تو فرمائیے کہ بجز اس کے کہ ایک ذلت کے ساتھ اپنی ٹوٹی پھوٹی سلطنتوں سے الگ کئے جائیں اور دشمن فتح یاب ہو جائے کوئی اور بھی اس کا نتیجہ ہوگا۔پس ایسے مقامات تدبیر اور انتظام میں خواہ وہ مثلاً جنگ و جدل ظاہری ہو یا باطنی اور خواہ تلوار کی لڑائی ہو یا قلم کی ہماری ہدایت پانے کیلئے یہ آیت کریمہ موصوفہ بالا کافی ہے یعنی یہ کہ۔اللہ جَلَّ شَانُـہٗ اس آیت میں ہمیں عام اختیار دیتا ہے کہ دشمن کے مقابل پر جو احسن تدبیر تمہیں معلوم ہو اور جو طرز تمہیں موثر اور بہتر دکھائی دے وہی طریق اختیار کرو پس اب ظاہر ہے کہ اِس احسن انتظام کا نام بدعت اور معصیت رکھنا اور انصار دین کو جو دن رات اعلائِ کلمہئِ اسلام کی فکر میں ہیں جن کی نسبتآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حُبُّ الْاَنْصَارِ مِنَ الْاِیْمَانِ ان کو مردود ٹھہرانا نیک طینت انسانوں کا کام نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحانی صورتیں مسخ شدہ ہیں اور اگر یہ کہو کہ یہ حدیث کہ حُبُّ الْاَنْصَارِ مِنَ الْاِیْمَانِ۔وَ بُغْضُ الْاَنْصَارِ مِنَ النِّفَاقِ یعنی انصار کی محبت ایمان کی نشانی اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے یہ ان انصار کے حق میں ہے جو مدینہ کے رہنے والے تھے نہ عام اور تمام انصار تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ جو اُس زمانہ کے بعد انصار رسول اللہ ہوں اُن سے