مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 380

بغض رکھنا جائز ہے نہیںنہیں بلکہ یہ حدیث گو ایک خاص گروہ کیلئے فرمائی گئی مگر اپنے اندر عموم کا فائدہ رکھتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر آیتیں خاص گروہ کیلئے نازل ہوئیں مگر ان کا مصداق عام قرار دیا گیا ہے غرض ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں انصار دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں۔مگر ہمارا یہ قول کُلّی نہیں ہے راستباز علماء اس سے باہر ہیں صرف خائن مولویوں کی نسبت یہ لکھا گیا ہے۔ہر یک مسلمان کو دعا کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جلد اسلام کو ان خائن مولویوں کے وجود سے رہائی بخشے۔کیونکہ اسلام پر اب ایک نازک وقت ہے اور یہ نادان دوست اسلام پر ٹھٹھا اور ہنسی کرانا چاہتے ہیں اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو صریح ہریک شخص کے نور قلب کو خلاف صداقت نظر آتی ہیں۔امام بخاری پر اللہ تعالیٰ رحمت کرے انہوں نے اس بارے میں بھی اپنی کتاب میں ایک باب باندھا ہے چنانچہ وہ اس باب میں لکھتے ہیں قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ أَتُحِبُّوْنَ اَنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اور بخاری کے حاشیہ میں اس کی شرح میں لکھا ہے اَیْ تُکَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِہِمْ یعنی لوگوں سے اللہ اور رسولؐ کے فرمودہ کی وہ باتیں کرو جو ان کوسمجھ جائیں اور ان کو معقول دکھائی دیں خواہ نخواہ اللہ رسول کی تکذیب مت کرائو۔اب ظاہر ہے کہ جو مخالف اِس بات کو سنے گا کہ مولوی صاحبوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ بجز تین مسجدوں یا ایک دو اور محل کے اور کسی طرف سفر جائز نہیں ایسا مخالف اسلام پر ہنسے گا اور شارع علیہ السلام کی تعلیم میں نقص نکالنے کیلئے اس کو موقع ملے گا اس کو یہ تو خبر نہیں ہوگی کہ کسی بخل کی بناء پر یہ صرف مولوی کی شرارت ہے یا اُس کی بیوقوفی ہے وہ تو سیدھا ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آورہوگا جیسا کہ انہیں مولویوں کی ایسی ہی کئی مفسدانہ باتوں سے عیسائیوں کو بہت مدد پہنچ گئی مثلاً جب مولویوں نے اپنے منہ سے اقرار کیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو نَعُوْذُ بِاللّٰہمُردہ ہیں مگر حضرت عیسیٰ قیامت تک زندہ ہیں تو وہ لوگ اہل اسلام پر سوار ہوگئے اور ہزاروں سادہ لوحوں کو انہوں نے اِنہیں باتوں سے گمراہ کیا اور اِن بے تمیزوں نے یہ نہیں سمجھا کہ انبیاء تو سب زندہ ہیں مردہ تو ان میں سے کوئی بھی نہیں۔معراج کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی لاش نظر نہ آئی سب زندہ تھے۔دیکھئے اللہ جَلَّ شَانُـہٗ اپنے