مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 378

نہیں رکھی گئی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر مثلًاکسی تدبیر یا انتظام سے ایک کام جو دراصل جائز اور روا ہے سہل اور آسان ہوسکتا ہے تو وہی تدبیر اختیار کرلو کچھ مضائقہ نہیں۔ان باتوں کا نام بدعت رکھنا ان اندھوں کا کام ہے جن کو نہ دین کی عقل دی گئی اور نہ دنیا کی۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں کسی دینی تعلیم کی مجلس پر تاریخ مقرر کرنے کیلئے ایک خاص باب منعقد کیا ہے جس کا یہ عنوان ہے مَنْ جَعَلَ لِاَھْلِ الْعِلْمِ اَیَّامًا مَعْلُوْمَۃً یعنی علم کے طالبوں کے افادہ کیلئے خاص دنوں کو مقرر کرنا بعض صحابہ کی سنت ہے۔اس ثبوت کیلئے امام موصوف اپنی صحیح میں ابی وایل سے یہ روایت کرتے ہیں کَانَ عَبْدُاللّٰہِ یُذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِیْسٍ یعنی عبداللہ نے اپنے وعظ کیلئے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا تھا۔اور جمعرات میں ہی اس کے وعظ پر لوگ حاضر ہوتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ اللہ جَلّ شَانُـہٗ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کیلئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کیلئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن پر غالب ہونے کیلئے مفید خیال کریں وہی بجا لاویں جیسا کہ وہ عَزَّاِسْمُہٗ فرماتا ہے۔ ۔۱؎ یعنی دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جو کرسکتے ہو کرو اور اعلائِ کلمہئِ اسلام کیلئے جو قوت لگا سکتے ہو لگائو۔اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تدبیریں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجا لائو اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے احسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تا تم فتح پائو۔اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اِس صرفِ قوّت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔اِس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بَرطَبق حدیثِ نبوی کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ ِالنِّیَّاتِ کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کیلئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کو نئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی ہیں یا نئے نئے طور پر ہم لوگوں پر ۱؎ الانفال: