مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 335

میں نہ آئے اور بالمقابل کھڑے نہ ہوئے اور مرد میدان بن کر بتصریح اپنے نام کے اشتہار شائع نہ کئے تو سمجھا جائے گا کہ دراصل کوئی صوفی نہیں۔صرف شیخ بٹالوی کی ایک مفتریانہ کارروائی ہے۔فقط۔جواب الجواب  بَعْدَ الْحَمْدِ وَ الصَّلٰوۃِ۔بخدمت میرزا غلام احمد صاحب۔سلام مسنون۔آپ کا عنایت نامہ مؤرخہ ۷؍ مئی میرے نیاز نامہ کے جواب میں وارد ہوا۔اُسے اوّل سے آخر تک پڑھ کر سخت افسوس ہوا کہ آپ نے دانستہ ٹلانے کے واسطے سوال از آسمان جواب از ریسمان کے موافق عمل کر کے بچنا چاہا ہے اصل مطلب تو آپ نے چھوڑ دیا۔یعنی آزمائش کے واسطے وقت اور مقام مقرر نہیں کیا بلکہ پھر آپ نے اپنی عادت قدیمہ کے مطابق کاغذی گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے۔جناب من! جس طرح آپ نے فیصلہ آسمانی میں چھاپا تھا۔اسی طرح اشاعۃ السنہ میں ان صوفی صاحب نے جواب تُرکی بہ تُرکی شائع کر دیا ہے۔آپ کو تو غیرت کر کے بلا تحریک دیگرے خود ہی طیار ہو جانا چاہیے تھا۔برعکس اس کے تحریک کرنے پر بھی آپ بہانہ کرتے ہیں اور ٹلاتے ہیں۔صوفی صاحب نے خود قصداً اپنا نام پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی مصلحت سے ظاہر نہیں کیا۔ناحق آپ نے کلمات گستاخانہ صوفی صاحب کی نسبت لکھ کر ارتکاب عصیان کیا۔سو آپ کو اس سے کیا بحث ہے۔آپ کو تو اپنے دعویٰ کے موافق تیار ہونا چاہیے۔مولوی محمد حسین صاحب خود ذمہ وار ہیں۔فوراً مقابلہ پر موجود کر دیں گے۔لہٰذا اب آپ ٹلائیں نہیں۔مرد میدان بنیں اور صاف لکھیں کہ فلاں وقت اور فلاں جگہ پر موجود ہو کر سلسلہ آزمائش و اظہار کرامت متدعو یہ شروع کیا جائے گا۔یہ عاجز بصد عجزونیاز عرض کرتا ہے کہ آپ اپنے دعویٰ میں اگر سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔میدان میں آئو۔دیکھو یا دکھائو۔صاف باطن لوگ دغل باز نہیں ہوتے۔حیلہ بہانہ نہیں کیا کرتے۔برکات آسمانی والے کمیٹیاں مقرر کیا کرتے ہیں رجسٹر کھلوایا کرتے ہیں۔اس قسم کی کارروائی صرف دھوکہ دینا اور