مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 334
درخواست کرتے ہیں۔آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہو تحریر فرماویں۔فقط۔اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر درحقیقت کوئی صوفی صاحب اس عاجز کے مقابلہ پر اُٹھے ہیں اور جو کچھ فیصلہ آسمانی میں اس عاجز نے لکھا ہے اس کو قبول کر کے تصفیہ حق اور باطل کا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ وہ چوروں کی طرح کارروائی نہ کریں۔پردہ سے اپنا مونہہ باہر نکالیں اور مرد میدان بن کر ایک اشتہار دیں۔اسی اشتہار میں بتصریح اپنا نام لکھیں اور اپنا دعویٰ بالمقابل ظاہر فرمائیں او رپھر اس طرز پر چلیں جس طرز پر اس عاجز نے فیصلہ آسمانی میں تصفیہ چاہا ہے۔اور اگر وہ طرز منظور نہ ہو تو فریقین میں ثالث مقرر ہو جائیں۔جو کچھ وہ ثالث حسب ہدایت اﷲ اور رسول کے رُوحانی آزمائش کا طریق پیش کریں وہی منظور کیا جائے۔چوروں اور نامردوں اور مخنثوں کی طرح کارروائی کرنا کسی صوفی صافی کا کام نہیں ہے جبکہ اِس عاجز نے علانیہ اپنی طرف سے دوہزار جلد فیصلہ آسمانی کی چھپوا کر اسی غرض سے تقسیم کی ہے تا اگر اس فرقہ مکفّرہ میں کوئی صوفی اور اہل صلاح موجود ہے تو میدان میں باہر آ جائے۔تو پھر بُرقع کے اندر بولنا کس بات پر دلالت کر رہا ہے۔کیا یہ شخص مرد ہے یا عورت جو اپنے تئیں صوفی کے نام سے ظاہر کرتا ہے۔کیا اس عاجز نے بھی اپنا نام لکھنے سے کنارہ کیا ہے؟ پھر جس حالت میں میری طرف سے مردانہ کارروائی ہے اور کھلے کھلے طور سے اپنا نام لکھا ہے تو یہ صوفی کیوں چھپتا پھرتا ہے۔مناسب ہے کہ اُسی طرح مقابل پر اپنا نام لکھیں کہ میں ہوں فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں۔اور اگر ایسا نہ کریں گے تو منصف لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ کارروائی ان لوگوں کی دیانت اور انصاف اور حق طلبی سے بعید ہے۔اب بالفعل اس سے زیادہ لکھنا ضرورت نہیں۔جس وقت اس صوفی محجوب پردہ نشین کا چھپا ہوا اشتہار میری نظر سے گزرے گا اس وقت اس کی درخواست کا مفصّل جواب دوں گا۔ابھی تک میرے خیال میں ایسے صوفی اور عنقا میں کچھ فرق معلوم نہیں ہوتا۔فقط۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔الراقم خاکسار غلام احمد ۷؍ مئی ۹۲ ء مکرر یہ کہ ایک نقل اس کی چھپنے کے لیے اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں بھیجی گئی تا کہ یہ کارروائی مخفی نہ رہے۔بالآخر یاد رہے کہ اگر اس رقعہ کے چھپنے اور شائع ہونے کے بعد کوئی صوفی صاحب میدان