مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 336
دفع الوقتی پر مبنی ہے۔افسوس صد افسوس۔اﷲ سے ڈرو۔قیامت کو پیش نظر رکھو۔ایسی مُریدی پیری پر خاک ڈالو۔جس مطبع میں آپ اپنا مضمون چھاپنے کے لیے بھیجیں اس عاجزکے مضمون کو بھی زیرقدم چھاپ دیں۔عریضہ نیاز۔میر عباس علی از لدھیانہ۔روز دو شنبہ ۹ ؍ مئی ۱۸۹۲ء جواب جواب الجواب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔بعد ہذا بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا جواب الجواب مجھ کو ملا۔جس کے پڑھنے سے بہت ہی افسوس ہوا۔آپ مجھ کو لکھتے ہیں کہ صوفی صاحب کے مقابلہ پر مرد میدان بنیں۔اگر سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔آپ کی اس تحریر پر مجھ کو رونا آتا ہے۔صاحب مَیں نے کب اور کس وقت حیلہ بہانہ کیا۔کیا آپ کے نزدیک وہ صوفی صاحب جن کے نام کا بھی اب تک کچھ پتہ و نشان نہیں میدان میں کھڑے ہیں۔مَیں نے آپ کو ایک صاف اور سیدھی بات لکھی تھی کہ جب تک کوئی مقابل پر نہ آوے اپنا نام نہ بتاوے۔اپنا اشتہار شائع نہ کرے کس سے مقابلہ کیا جائے۔میں کیونکر اور کن وجوہ سے اس بات پر تسلی پذیر ہو جائوں کہ آپ یا شیخ بٹالوی اس صوفی گمنام کی طرف سے وکیل بن گئے ہیں۔کوئی وکالت نامہ نہ آپ نے پیش کیا اور نہ بٹالوی نے۔اور اب تک مجھے معلوم نہیں ہوا کہ اس صوفی پردہ نشین کو وکیلوں کی کیوںضرورت پڑی۔کیا وہ خود ستر میں ہے یا دیوانہ یا نابالغ۔بجُز اس کے کیا سمجھنا چاہیے کہ اگر فرض کے طورپر کوئی صوفی ہی ہے تو کوئی فضول گو اور مفتری آدمی ہے جو بوجہ اپنی مفلسی اور بے سرمائیگی کے اپنی شکل دکھلانی نہیں چاہتا۔مَیں متعجب ہوں۔یہ سیدھی بات آپ کو سمجھ نہیں آتی۔یہ کس قسم کی بات ہے کہ صوفی تو عورتوں کی طرح چھپتا پھرے اور مرد میدان بن کر میرے مقابلہ پر نہ آوے اور الزام اس عاجز پر ہو کہ کیوں صوفی کے مقابل