مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 299

خیال سے کہ ان کی وفات کا قرآن کریم میں ذکر نہیں ہے یہ ثابت نہیں ہو گا کہ وہ زندہ ہیں۔وفات انسان اور ہر ایک حیوان کے لیے ایک اصلی اور طبعی امر ہے جس کے ثبوت دینے کے لیے درحقیقت کچھ بھی ضرورت نہیں۔جو شخص کئی سو برس سے مفقود الخبرہو۔وہ قوانین عدالت کی رُو سے مُردوں میں شمارکیا جائے گا گو اس کو مرتے ہوئے کسی نے بھی نہ دیکھا ہو لیکن حیات خارق عادت ایک استدلالی امر ہے جو اپنے ثبوت کے لیے دلیل کا محتاج ہے۔یعنی جب تک کسی مفقود الخبر غائب از نظر کی ایسی لمبی عمر جو طبعی عمر سے صدہا گونا زیادہ ہے۔دلائل یقینیہ سے ثابت نہ کی جائے تب تک کوئی عدالت اس بیان کو تسلیم نہیں کر سکتی۔کہ وہ زندہ ہے۔اِس تقریر سے اس جگہ میری غرض صرف اس قدر ہے کہ جو شخص حضرت مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی خارق عادت کا دعویٰ کرتا ہے۔بارِ ثبوت اس پر ہے اور اسی کا یہ فرض ہے کہ آیات قطعیہ اور احادیث صحیحہ کے منطوق سے اس دعویٰ کو ثابت کرے اوراگر یہ دعویٰ ثابت نہ ہو اس کا عدم ثبوت ہی وفات کے لیے کافی دلیل ہے۔کیونکہ وفات ایک طبعی امر ہے جو عمر طبعی کے بعدہر ایک متنفس کے لیے ضروری ہے لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن وہموں کی بیخ کنی کرنے کے لیے مسیح ابن مریم کی وفات کو شافی بیان کے ساتھ ظاہر فرما دیا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آخری زمانہ کے فتنوں میں سے ایک یہ بھی فتنہ ہو گا کہ ایک عاجز بندہ مسیح ابن مریم اخیر زمانہ تک زندہ رہنے والا قرار دیا جاوے گا۔سو اُس نے مسیح کی وفات کو ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ ہر ایک وہم کی جڑ کاٹ دی۔ہماری کتاب ازالہ اوہام کو دیکھو اور ان تمام دلائل کو غور سے پڑھو جو مسیح ابن مریم کی وفات کے بارے میں ہیں۔اِن تمام واقعات سے جو ہم نے اس اشتہار میں ظاہر کئے ہیں، منصف مزاج لوگ بخوبی مطمئن ہو سکتے ہیں کہ شیخ الکل صاحب نے اس عاجز کے مقابلہ پر وہ طریق اختیار نہیں کیا جو ایسے موقع پر ایک متقی پارسا طبع کو کرنا پڑتا ہے بلکہ اپنے زُعم میں کل اکابر اور ائمہ کے مقتداء بن کر اور شیخ العرب و العجم کہلا کر پھر اظہار حق سے ایسا منہ چھپایا کہ ایک ادنیٰ درجہ کا مومن بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔اور ہرگز نہ چاہا کہ سیدھے ہو کر بحث کریں۔مَیں نے اپنے ہر ایک اشتہار میں شیخ الکل صاحب کو مخاطب کیا اور