مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 298

یہی ہے کہ اگر حقیقی تقویٰ شامل حال ہوتا اور خدائے تعالیٰ کا کچھ خوف ہوتا تو بیشک وہ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ اپنی غلطی کا اقرار کر کے خدائے تعالیٰ کو خوش کرتے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے اور ننگ اور ناموس اور پندار اور عُجب اور تکبّر کا زنگ اس کے رگ و ریشہ میں رچ جاتا ہے تو یہ ذلّت قبول کر کے اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا بہت مشکل اس کے لئے ہو جاتا ہے۔تو پھر صرف حق پوشی کیا بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر افعال ناشائستہ اس سے صادر ہوتے ہیں۔غرض علماء کے لئے مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا اَشَدُّ مِنَ الْمَوْتِ ہے اور اسی وجہ سے شیخ الکل صاحب شہادتِ حقّہ کے ادا کرنے کے لیے توفیق نہ پا سکے اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ مجھے اس بات کاسخت رنج ہے کہ شیخ الکل صاحب نے اپنی اس پیرانہ سالی کی عمر میں شہادت حقّہ کا اخفا کر کے اپنی سوء خاتمہ کی ذرا پروا نہ کی۔اُن کا یہ فرض تھا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اس شہادت کو ادا کر دیتے کہ کیا قرآن اور احادیث کے نصوص بیّنہ سے قطعی اور یقینی طور پر مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت ہوتی ہے یا اس کے مخالف ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی اس شہادت کو جو اُن سے محض لِلّٰہ طلب کی گئی تھی کیوں چھپایا۔کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ اللّٰہ جَلّ شَانُـہٗ اپنی کتاب عزیز میں فرماتا ہے۔    ۔۱؎ الآیۃ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی ان کھلی کھلی تعلیمات اور ہدایتوں کو لوگوں پر پوشیدہ رکھتے ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے۔اُن پر خد اتعالیٰ کی لعنت ہے اور نیز اس کے بندوں کی بھی لعنت۔اب اے ناظرین !میں اللہجَلّ شَانُـہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی کا قرآن اور احادیث میں ایک ذرہ نشان نہیں ملتا، لیکن ان کی وفات پر کھلے کھلے نشان اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ موجود ہیں۔اور اگرا ن کی وفات کی نسبت قرآن اور حدیث میں کچھ ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی اس وجہ سے کہ حیات ثابت نہیں کی گئی۔اُن کی وفات ہی ثابت ہوتی۔قرآن کریم میں بہتیرے ایسے نبیوں کا ذکر ہے جن کی وفات کا کچھ حال بیان نہیں کیا گیا کہ آخر وہ مرے یا کیا ہوئے، لیکن محض اس ۱؎ البقرۃ: ۱۶۰